ایران میں کرمان حملے کے پیچھے عوامل و اہداف

نعمان ھروی

داعشی منصوبے کے اہداف کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ امت مسلمہ میں نفاق کا بیچ بونا، امت مسلمہ میں اسلاف کے حوالے سے بد اعتمادی پیدا کرنا، عراق اور افغانستان میں استعمار کے خلاف جہاد ناکام کرنا، امت میں جہاد کی فکر سے آراستہ نوجوانوں میں فکری انحراف پیدا کرنا اور انہیں امت کے اندر ہی استعمال کرنا اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی اسلامی دعوت کے آگے بند باندھنے کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا داعشی منصوبے کے اہداف ہیں۔

داعش جو آج کئی علاقوں میں شکست سے دوچار ہو چکی ہے، اب ایک کمرشل کمپنی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور خفیہ ایجنسیاں اسے بالواسطہ طور پر بری طرح استعمال کر رہی ہیں۔

المرصاد کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ خطے میں خفیہ ایجنسیاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے جعلی گروپ تشکیل دے رہی ہیں، انہیں داعشی نظریے کی تعلیم دیتی ہیں، پھر انہیں داعش خراسان کے ساتھ مربوط کر دیتی ہیں، اور داعشیوں کا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر شیعوں پر حملے کرواتی ہیں۔ جب ان کے داعشیوں کے ساتھ روابط مضبوط ہو جاتے ہیں، پھر انہیں اپنے اہداف کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ موساد سمیت کئی مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اور افغانستان کے پڑوس میں اور خطے کی بعض خفیہ ایجنسیاں بھی اس کھیل میں مشغول ہیں۔

داعشی منصوبے کے حوالے سے تحقیقاتی مراکز اور بہت سے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ ایران کے کرمان شہر میں حملہ داعش کے انہیں جعلی گروپوں کا کام ہے اور ممکن ہے کہ یہ حملہ اس لیے کیا گیا ہو تاکہ ایران اپنے داخلی معاملات میں مصروف ہو جائے اور فلسطین اور لبنان میں اسرائیل کے خلاف فعال کردار ادا کرنا چھوڑ دے، جبکہ دوسری طرف یہ اسرائیل کی ایران کے حوالے سے ’’خنجر کے ایک ہزار وار سے موت‘‘ کی حکمت عملی کے مطابق کاروائی کو ظاہر کرتا ہے۔