ایران ہماری شناختی دستاویزات کا احترام کرے

رحمت اللہ فیضان

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاسپورٹ ایک شناختی دستاویز ہے جسے ریاستیں اپنے شہریوں کے سفر میں سہولت کے لیے جاری کرتی ہیں اور ایک ملک کے لوگ ویزا حاصل کر کے دوسرے ملک سفر کر سکتے ہیں۔ افغان بھی مختلف مقاصد جیسے سیاحت، تعلیم، کام، صحت اور اس طرح کے دیگر قانونی مقاصد کے لیے مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں جن میں سے ایک ایران ہے۔ ایران نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ویزوں کی بہت سی اقسام بنا رکھی ہیں جو درج ذیل ہیں:

  1. اینٹری ویزا
    یہ ویزے کھلاڑیوں اور علمی شخصیات کو جاری کیے جاتے ہیں۔
  2. سیاحتی ویزا
    یہ ان غیر ملکی سیاحوں کو جاری کیے جاتے ہیں جو ایران کے سیاحتی مقامات کی سیر کرنا چاہ رہے ہوں۔
  3. زیارتی ویزا
    یہ ویزے ان لوگوں کو جاری کیے جاتے ہیں جو ایران میں مذہبی مقامات کی زیارت کرنا چاہ رہے ہوں۔
  4. سیاسی ویزا
    یہ ویزے سفارتکاروں، سیاسی نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں کو جاری کیے جاتے ہیں۔
  5. تعلیمی ویزا
    یہ ویزے طلباء، اساتذہ، اور دینی علوم حاصل کرنے کے خواہش مندوں کو جاری کیے جاتے ہیں۔
  6. ورک ویزا
    یہ پیشہ ور اور ایسے افراد کو جاری کیے جاتے ہیں جو معاش کی خاطر ایران میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
  7. ٹرانزٹ ویزہ
    یہ ویزے پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیورز، ریلوے ورکرز، ہوائی جہاز کے عملے، بحری جہاز کے عملے یا دیگر ایسے مسافروں کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جو ایران میں رکنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ صرف ایران سے گزر کر دوسرے ملک جانا چاہتے ہوں۔
  8. پریس ویزا
    یہ ویزے صحافیوں، فوٹوگرافروں اور رپورٹرز کو جاری کیے جاتے ہیں۔
  9. سروس ویزا
    یہ ویزے دیگر ممالک کے ان اداروں کے ملازمین کو جاری کیے جاتے ہیں جو غیر سیاسی امور کے ذمہ دار ہوں۔
  10. ملٹی اینٹری ویزا
    یہ ویزے ان تاجروں اور پیشہ ور افراد کو دیے جاتے ہیں جو بار بار ایران آنے جانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔

حالیہ ہفتوں میں ایران نے ماضی سے کہیں زیادہ افغان مہاجرین کو زبردستی ایران سے بے دخل کیا ہے، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس ویزا یا اقامہ جیسی قانونی دستاویزات بھی موجود تھیں، انہوں نے افغانستان سے مربوط اداروں میں اپنی شکایات درج کروائی ہیں اور ایسے ثبوت پیش کیے ہیں کہ ایرانی پولیس کی جانب سے ان کی توہین کیے جانے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے پاسپورٹ پھاڑ دیے گئے، جلا دیے گئے یا ان سے چھین لیے گئے۔

قانونی دستاویزات رکھنے والے افغانوں کو بھی ایران سے نکالنے کی وجوہات کے بارے میں میرا گمان یہ ہے کہ ایسے لوگ سیاحتی ویزے پر ایران میں کام کر رہے تھے جبکہ ایرانی حکومت سیاحتی ویزے پر آئے افراد کو کام کی اجازت نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے بہت سے افغان سیاحتی ویزا حاصل کر کے ایران کام کی خاطر جاتے ہیں اور اس معاملے میں ہماری حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے شہریوں کو سفر کے بارے میں آگاہی فراہم کرے۔

افغانوں کی پچھلے چالیس سال میں اس قدر توہین کی جا چکی ہے کہ اب ایسے لوگوں کی طرف سے کی گئی توہین برداشت نہیں ہوتی جو دوستی اور بھائی چارے کا نام لے کر ٹانگیں کاٹتے ہیں۔  اس کے علاوہ ایرانی پولیس کی جانب سے افغانستان کی شناختی دستاویزات کی توہین ایران اور افغانستان کی عوام کے درمیان نفرت کو ہوا دے گی۔

اس وقت پڑوسی ممالک (ایران اور پاکستان) کے ارادوں سے ایسا لگتا ہے کہ اب یہ ممالک افغانوں کے لیے امن و خوشحالی کی جگہیں نہیں رہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ افغانستان کے اندر اور باہر رہنے والے افغان ہاتھ بٹائیں، اپنے لوگوں کی نجات کے لیے امارت اسلامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، واپس آنے والے اپنے ہم وطنوں کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کریں اور اس معاملے میں کسی اور پر بھروسہ نہ کریں۔