امارت اسلامیہ کے خارجہ تعلقات کی اساس

طاہر احرار

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات قبل از مسیح سے آج تک چلے آ رہے ہیں، ماضی میں یہ تعلقات مذہبی نوعیت کے تھے لیکن کچھ صدیاں قبل ان کی نوعیت سیاسی ہو گئی۔

اگر حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ۱۹۹۰ء کی دہائی میں جب امارت اسلامیہ افغانستان حاکم تھی، ہندوستان کے افغانستان کے ساتھ کوئی دوستانہ تعلقات نہ تھے، بلکہ اس نے شمال میں طالبان مخالفین کی وسیع مالی و عسکری مدد کی، اسی طرح استعماری دور میں وہ جمہوری حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا تھا اور طالبان کا شدید مخالف تھا۔

افغانستان میں امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر ملک یہاں اپنا نفع حاصل کرنے اور تجارت کی نئی راہیں تلاش کرنے میں کوشاں ہے۔

ہندوستان اور افغانستان دونوں کی کوشش ہے کہ چابہار کے ذریعے تجارت کو فروغ دیا جائے اور افغانستان کا دوسروں پر انحصار ختم ہو۔ یہ تعلقات ممالک کے درمیان معمول کی بات ہیں، اور فقط منافع حاصل کرنے پر مرکوز ہیں، کوئی ملک دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

امارت اسلامیہ افغانستان تمام دنیا بشمول ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے جبر اور ظلم و تشدد کی مخالفت کرتا ہے اور وہاں مظلوم مسلمانوں کی سیاسی حمایت کرتا ہے، یہ اس لیے کہ ملک ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ ملک سے باہر مسلمانوں کے تحفظ کے لیے جنگ میں داخل ہو سکے، البتہ یہ وہاں موجود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم سے اپنا دفاع کریں۔

اگر داعش امارت اسلامیہ پر یہ الزام لگاتی ہے کہ یہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کیوں قائم کر رہی ہے، تو داعش جو خود کو پوری دنیا میں خلافت کا دعویدار سمجھتی ہے وہ ہندوستان سے جنگ کیوں نہیں کرتی؟

فلسطین پر ہونے والے ظلم و بربریت پر کیوں خاموش ہے؟

داعش کو اسلام یا مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیں، وہ صرف اس کوشش میں ہے کہ کیسے یہودی پالیسیاں اس خطے میں نافذ کرے۔

لیکن جانبازوں نے اس کے خوابوں کو جھوٹا کر دیا ہے اور انہیں قدم قدم پر شکست سے دوچار کیا ہے۔

 

الحمد للہ