حوثیوں کا اسرائیلی بحری جہازوں پر قبضہ، کیا جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے؟

مجیب احمد

یمن میں حکمران انصار اللہ حوثی گروپ نے چند روز قبل ایک امریکی ڈرون مار گرایا اور پھر بحیرہ احمر میں ایک اسرائیلی تجارتی بحری جہاز کو پکڑ کر یمن کے ساحل پر لے آئے۔

آبنائے باب المندب کو دنیا کی اہم ترین آبنائے میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، یہاں سے روزانہ ساٹھ لاکھ بیس ہزار ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں، اس کے علاوہ دنیا کی قدرتی گیس کی ۳۰ فیصد سے زیادہ تجارت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے، پوری دنیا کی تجارت کا ۱۰ فیصد سے زیادہ حصہ اسی آبنائے سے ہوتا ہے۔ سالانہ اکیس ہزار بحری جہاز اس آبنائے سے گزرتے ہیں، یعنی روزانہ تقریباً ۵۷ بحری جہاز اس آبنائے سے گزرتے ہیں۔ طوفان الاقصیٰ کی بے مثال کاروائی کے بعد امریکی بحریہ نے اس آبنائے کے ارد گرد بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات کیے ہیں، تاکہ یہ طوفان اپنا دائرہ وسیع نہ کر سکے۔

حوثیوں نے اپنے ایک رسمی بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کے اہداف درج ذیل ہیں:

۱۔ وہ بحری جہاز جن پر اسرائیلی پرچم لہرا رہا ہو،

۲۔ وہ بحری جہاز جنہیں اسرائیلی کمپنیاں چلاتی ہیں،

۳۔ وہ بحری جہاز جو اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

اگر اس ہدف پر درست طریقے سے عمل ہو تو یہ اسرائیلی معیشت کے لیے تباہ کن دھچکا ہے اور اسے جنگ کے مترادف گردانا جائے گا۔ حوثی باغی ایسے ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ صرف اسرائیل کے خلاف ہیں اور دوسروں سے جنگ شروع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

کشتیوں کو قبضے میں لے کر حوثیوں نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو پہلے سے کہیں زیادہ حیران کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کی خاطر امریکی ڈرون مار گرائے جانے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے میں جاری بحران اور جنگ میں ہونے والی اس بڑی پیش رفت کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل کیا ہو گا؟

میری رائے میں:

پہلا امکان:

امریکہ اور اسرائیل کبھی بھی فوری ردعمل ظاہر نہیں کریں گے نہ ہی مداخلت کریں گے اور اسی بات پر اکتفا کریں گے کہ اس معاملے میں تبادلہ اور مذاکرات کے ذریعے  مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کا مطلب ایران کو ہری جھنڈی دکھانا ہے کہ وہ مزید طاقت کے ساتھ اس بحران میں مزید اضافہ کرے۔ ایران ہر صورت دوبارہ بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا اور جب تک غزہ میں جنگ جاری رہے گی حوثی ایسا کرنا بند نہیں کریں گے، تو پھر امریکہ اور اسرائیل کو جہازوں کے بارے میں بات چیت کرنے کا کیا فائدہ؟

دوسرا امکان

اگر اسرائیل کسی نہ کسی طرح فوجی جواب دیتا ہے تو اس سے اسرائیل ایسی جنگ میں شامل ہو جاتا ہے کہ جس سے اسرائیل امن کے دور میں بچنے کی کوشش کر ہا تھا، تو اس حالت میں وہ اس جنگ پر کیسے مائل ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یمن کے ساتھ اعلانِ جنگ حماس کے خلاف اعلان جنگ کی طرح نہیں ہے، بلکہ اسرائیل اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کی طرف سے صنعا پر بمباری کے مناظر اس طرح نشر نہیں کیے جائیں گے جس طرح غزہ پر بمباری کے مناظر نشر کیے گئے۔

تیسرا امکان

امریکہ بحری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے نام پر نیٹو کی چھتری تلے سمندر میں فوجی مداخلت کرے گا جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور جنگ میں خطرناک حد تک وسعت کا پیغام ہو گا۔

تاہم، اب تک کچھ بھی واضح نہیں ہے، لیکن واقعہ ہوا ہے اور ہم خطے کی تصویر کو مزید واضح کرنے کے لیے تمام فریقین کے ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن یہ بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جنگ کا دائرہ یمن اور بحیرہ احمر تک وسیع ہو چکا ہے۔