حقیقی امیر المؤمنین | پہلی قسط

طاہر احرار

عصرِ حاضر میں نظامِ جمہوریت لوگوں کے درد کا درما نہیں ہو سکتا۔ آپ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) اور اشتراکیت (Communism) کو آزما چکے ہیں۔ اسی طرح پوری دنیا میں بادشاہی نظام بھی ظلم و بربریت کی مثال رہے ہیں۔

صرف اور صرف اسلامی نظام ہی دنیاوی مسائل کو حل کر کے اسے جنت نظیر بنا سکتا ہے۔

اسلامی نظام امارت یا خلافت سے عبارت ہے، جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ جیسے امراء آئیں اور عدل و انصاف سے کام لیں، اور پوری دنیا میں دینِ اسلام کو غالب اور دشمنانِ اسلام کو مغلوب کر دیں۔

ان گنت قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت سے نوازا، اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی امیر عطا کیا، جس امیر کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکلف کیا ہے، وہ امیر جس نے وطنِ عزیز سے کفر کی یلغار کو نکال باہر کیا، جو ان کی سب سے بڑی ذمہ داری تھی، وہ امیر جنہیں بہت سی پیشکشیں کی گئیں، لیکن امیر المؤمنین نے ان پر لبیک کہنے کی بجائے اپنا بیٹا، دینِ سلام کی حاکمیت اور سربلندی کے لیے قربان کر دیا۔ استعمار کے خاتمے کے بعد بھی مغربی شیاطین مختلف سازشوں کے جال بُنتے رہے ہیں تاکہ امیرالمؤمنین کے ارادے متزلزل کر دیں، لیکن الحمد للہ وہ کسی بھی ایسی سازش کا شکار نہ ہوئے۔

انہوں نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکوں کی حمایت کی، جس کی بہترین مثال فلسطین کا جہاد ہے۔ وہ مسئلہ جس کے بارے میں داعشی نہ صرف بالکل خاموش رہے ہیں بلکہ الٹا انہوں نے اسرائیل کی حمایت کی۔

امیر المؤمنین نے عدالتوں کو مکمل طور پر رشوت، سفارش، ظلم اور خیانت سے پاک کر دیا، اور اب عدالتوں میں قرآن مجید کے حکم کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حدود کا نفاذ کیا گیا، جنہیں اسلامی نظام میں اصول کی حیثیت حاصل ہے، اور مغرب کی چیخ و پکار پر بالکل کان نہیں دھرے گئے۔ لیکن حدود کے متعلق مشہور روایت ہے کہ:

’’ادرؤوا الحدود بالشبهات ‘‘ یعنی شبہات ی صورت میں حدود سے پرہیز کرو۔

حدود کی تطبیق میں مکمل احتیاط برتی جائے ایسا نہیں کہ ثبوت، شواہد، اور اقرار کے بغیر ایک شخص کو پکڑ لیا جائے اور پھر طاقتور کے ظلم کو حد کا نام دے دیا جائے۔

آپ نے داعشی خوارج کے مظالم دیکھے ہوں گے، جو اپنے مظالم کو حدود کا نام دیتے تھے۔

امیر المؤمنین نے امر بالمعروف والنھی عن المنکر کی خاطر ایک مکمل وزارت کی تشکیل کا اعلان کیا، جو الحمد للہ پورے ملک میں فعال ہے۔

امر بالمعروف والنھی عن المنکر کی وزارت کسی اور اسلامی ملک میں نہیں، یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے صرف افغانیوں کو عطا کی ہے۔

یہ وزارت مغرب اور مغرب کے غلاموں کی آںکھ کا کانٹا ہے۔

جاری ہے…!