حقیقی امیر المؤمنین | دوسری قسط

طاہر احرار

امیر المؤمنین نے بغاوت کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ حقیقی اور کامل عام معافی کے بعد وہ لوگ جو اسلامی نظام کے قیام میں رکاوٹ تھے یا جنہوں نے عام معافی سے درست استفادہ نہیں کیا، انہیں ایسی چوٹ پہنچائی کہ دوبارہ سر اٹھانے کی جرات نہیں کر سکیں گے۔

امیر المؤمنین نے مختلف قومی و مذہبی تعصبات کو ہوا دینے والے یا دینی و ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے والے گروہوں اور تنظیموں کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور تمام مسلمان بھائیوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا۔

امیر المؤمنین نے بلا تفریق تمام یتیموں کی اچھی تعلیم اور اچھی تربیت کے مراکز قائم کیے، خواہ وہ سابقہ حکومت کے فوجیوں کے بچے ہوں یا مجاہدین کے، اور ان کے اخراجات حکومت کے ذمے ڈالے، اسی طرح ان کے گھرانوں کے لیے مناسب ماہانہ کفالت کا انتظام بھی کیا۔

امیر المؤمنین نے ملک کے اپاہج اور معذور افراد کے لیے بھی بلا تفریق ماہانہ کفالت کا انتظام کیا، اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر سے گداگروں کو بھی جمع کروایا اور حکومت کی طرف سے ان کے لیے بھی ماہانہ مناسب اخراجات طے کیے گئے۔

امیر المؤمنین نے دنیا میں سمع و اطاعت کی ایک بہترین مثال پیش کی کہ اسلام میں ایک امیر اپنے ایک مکتوب کے ذریعے دس سے زیادہ وزراء اور گورنروں کو بدل سکتا ہے اور کوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا۔

افغانستان کے ہر حصے میں جمعہ کے خطبہ میں خطیب آپ کا نام لیتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ دنیا کے ہر کونے سے مسلمان امیر المؤمنین سے بیعت کا سلسلہ شروع کریں گے۔

ان شاء اللہ

(وما ذالک على الله بعزيز)