حق و باطل کا مختصر موازنہ

محمود محفوظ

حق و باطل کا مختصر موازنہ

وہ انقلاب جو ۲۳ سالوں میں پوری دنیا کے بحر و بر، پہاڑوں، جنگلوں بیابانوں تک میں پھیلا، جس نے آدھی دنیا کو مسخر کیا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا، اس کے افکار اور مسافر آج بھی زندہ و جاوید ہیں اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔ کیا یہ نظام زور، جبر اور ظلم کے ذریعے آ سکتا ہے یا عدل، انصاف، اخلاق اور دلوں پر حکمرانی کے ذریعے سے؟

اس دعویٰ کے ثبوت اور سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے ہم مؤرخین کی طرف سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ سالہ جنگ کے دوران ریکارڈ کیے گئے جانی نقصانات کا نقشہ پیش کریں گے اور پھر دیگر نظاموں سے مختصر موازنہ کریں گے۔ مزید فیصلہ قارئین پر۔

مؤرخین نے صحابہ کرام اور ان کے دشمنوں کے جانی نقصانات کے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  1. کفار: ۶۵۶۴ قیدی ۴۵۹ قتل
  2. مسلمان: ۱۱ قیدی، ۴۵۹ قتل

لیکن اس کے برخلاف بے دین سیاست کی بنیاد پر کھڑی تہذیب سیکولرازم اور کمیونزم کے نتیجے میں دنیا کو انسانی، مادی اور روحانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

پہلی جنگ عظیم میں جو ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۱۸ء میں ختم ہوئی، جانی نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. روس کے۱۷ لاکھ لوگ ،
  2. فرانس کے ۱۳ لاکھ ۷۰ ہزارلوگ،
  3. اٹلی کے چار لاکھ ۶۰ ہزار لوگ،
  4. آسٹریلیا کے ۸ لاکھ لوگ،
  5. برطانیہ کے ۷ لاکھ ۶ ہزار لوگ،
  6. ترکی کے ۲ لاکھ ۵۰ ہزار لوگ،
  7. بلجیم کے ایک لاکھ ۲ ہزار لوگ،
  8. رومانیہ کے ایک لاکھ لوگ،
  9. اور امریکہ کے پچاس ہزار لوگ مارے گئے۔

اس حوالے سے مجموعی اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • مجموعی ہلاکتیں: چھ کروڑ پچاس لاکھ
  • عام شہری ہلاکتیں: ایک کروڑ تیس لاکھ
  • لاپتہ ہونے والے فوجی: تیس لاکھ
  • زخمی: دو کروڑ
  • بے گھر افراد: ایک کروڑ
  • قیدی تیس لاکھ
  • یتیم ہوئے بچے: ۹۰ لاکھ
  • بیوائیں: ۵۰ لالکھ

اس کے علاوہ اربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا۔

دوسری جنگ عظیم جو ۱۹۳۹ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۴۵ء میں ختم ہوئی اس میں جانی نقصانات درج ذیل ہیں:

  1. ہلاک شدہ روسی فوجی اہلکار: ۷ لاکھ ۵۰ ہزار
  2. امریکی: ۳ لاکھ
  3. برطانوی: ۵ لاکھ ۵۰ ہزار
  4. چینی: ۲۲ لاکھ
  5. جاپانی: ۱۵ لاکھ
  6. مجموعی عام شہریوں کی ہلاکتیں: ایک کروڑ ۸۰ لاکھ

۶ اگست ۱۹۴۵ء کو امریکہ نے تیس لاکھ ۳۵ ہزار کی آبادی والے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم استعمال کیا۔

اسی طرح ۸ اگست کو جاپان کے شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم استعمال کیا جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ مارے گئے۔

یورپ میں ہونے والی فرقہ وارانہ جنگوں میں بیس لاکھ لوگ مارے گئے، اسپیں میں دو مختلف تنازعوں میں تین لاکھ ۴۰ ہزار افراد اور ۳۲ ہزار افراد زندہ جل گئے۔ صرف کلیسا کے پادریوں نے تین لاکھ ۳۵ ہزار سائنس دان قتل اور زندہ جلائے۔

امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران ایک کروڑ لوگ مارے گئے، ویتنام کی جنگ میں دس لاکھ لوگ مارے گئے جس میں ۵۶ ہزار صرف امریکی تھے۔

انقلابِ فرانس کی کامیابی کے بعد مخالفین کے خاتمے کی خاطر سب کے قتل کے لیے گیلوٹین (سر قلم کرنے والی مشینیں) نصب کی گئیں اور بیس لاکھ افراد کو ان پر ذبح کیا گیا۔

وحشی روسی درندوں نے ۱۹۳۱ء میں جمہوریہ کریمیا میں ۲۰ ہزار افراد کو قتل کیا اور ۵۰ ہزار افراد کو ملک بدر کر دیا۔ روسی اعداد و شمار کے مطابق صرف اسٹالن نے ایک کروڑ دس لاکھ مسلمان شہید کیے، مشرقی اور مغربی ترکستان میں ایک کروڑ ۸۰ لاکھ مسلمان شہید کیے گئے جبکہ افغانستان میں ۱۶ لاکھ مسلمان شہید کیے گئے۔

استاد عیسیٰ الپت گین، جو کہ خونی کمیونسٹ جیل سے زندہ فرار ہوئے، وہ اپنی آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’’کمیونسٹ وحشی درندے مسلمان قیدیوں کے سروں میں میخیں ٹھونکتے تھے، یہاں تک کہ میخیں ان کے گلے تک پہنچ جاتیں، قیدی کے جسم پر پیٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دیتے تھے، قیدی کے جسم کو لوہے کی تاروں سے باندھتے اور پھر اسے بجلی کے جھٹکے لگاتے، پورے جسم میں سوئیاں اور کیلیں داخل کرتے، لوہے کی باڑ سے باندھ کر موت کے گھاٹ اتارتے، گرم سرخ لوہے سے جسم داغتے، سر کے بال جلد سے اکھاڑ دیتے، منہ اور ناک میں کھولتا ہوا پانی ڈالتے، اس کے علاوہ جو ظلم و درندگی انہوں نے عورتوں پر کی وہ بیان سے باہر ہے۔‘‘

آج جو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے اور اس میں مسلمانوں کا قتل عام اور یہودیوں کے کرتوت کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

اب اس ظلم اور خونریزی کے مقابل اس انقلاب کو دیکھیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے انسانی جسم و روح میں برپا ہوا۔ امن و امان کا وہ انقلاب جس نے انسان کو زمین پر خلیفہ مقرر کیا، اس کے افعال و اعمال نے انسان کو اپنے سیرت و اخلاق میں فرشتہ بنا دیا اور یہ کام صرف ۲۳ سال میں مکمل کیا۔ اس عظیم انقلاب کے دوران دونوں طرف ۹۱۸ لوگ مارے گئے۔ اس لیے اگر ہم اس عظیم انقلاب کو لانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے سامنے رحمت، امن، سلامتی، محبت، ہمدردی کے ناموں سے مخاطب نہیں کریں گے تو اور کیسے کریں گے؟

دنیا اپنے پراپیگنڈہ کے ذریعے کفر کا سفید اور اسلام کو سیاہ دکھاتا ہے، لیکن فلسطین کی تباہی میں ان کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہو چکا ہے۔

صرف بیس دنوں میں دس ہزار مسلمان جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی انہیں شہید کر دیا گیا۔

کفر کے اصلی چہرے کو غزہ میں بہت اچھی طرح پہچانا جا سکتا ہے۔