حنیف اتمر وہ جاسوس جس نے خراسانی خوارج کو آلہ کار بنایا

زبیر عاطف

محمد حنیف اتمر کمیونسٹ تھا، اس نے ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب کے دور میں انیٹلی جنس ادارے خاد میں کام کیا، بعد میں اس نے مغربی انٹیلی جنس میں پناہ حاصل کی۔ افغانستان پر امریکی کے حملے کے بعد اس نے امریکی کٹھ پتلی کے طور پر کام کیا۔ لیکن جب ۲۰۱۵ء میں داعشی خوارج افغانستان میں نمودار ہوئے تو اس نے اپنے پورے پس منظر اور نظریے کے خلاف جاتے ہوئے داعشی خوارج کی حمایت ان کے لیے مہم چلانا شروع کر دی۔ اتمر کا خوارج سے کوئی نظریاتی تعلق نہیں تھا، لیکن اس نے خوارج کے ظہور کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور امارت اسلامیہ اور امریکی استعمار کے خلاف جاری جہاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

بلاشبہ اس کام میں وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ پوری مغربی دنیا اس سے ہم آہنگ تھی، مغربی اور علاقائی انٹیلی جنس کو افغانستان میں خوارج امارت اسلامیہ کو کمزور کرنے کے لیے ایک اچھا وسیلہ نظر آئے۔

خوارج کے ساتھ اتمر کی مدد اس حد تک بدنام ہو گئی کہ اس وقت کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی پارلیمنٹ میں بھی شور اٹھ گیا اور اسے افغانستان میں داعش کا ایک بالواسطہ بانی کہا گیا۔

اتمر پر داعش سے وابستہ ہونے کا الزام تھا اور یہ الزام اس لیے پختہ یوگیا کیونکہ ۲۰۱۵ء میں خوارج کے افغانستان میں اپنے وجود کا اعلان کرنے سے قبل، وہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب تھا۔  معاہدے پر دستخط کی خبر میڈیا پر آئی تو کچھ ہی مدت بعد خوارج نے افغانستان میں اپنے وجود کا اعلان کردیا۔

۲۰۱۸ء میں جب امارت اسلامیہ نے صوبہ جوزجان کے ضلع درزاب میں خوارج کا محاصرہ کیا، تو اتمر نے اپنے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تقریباً ۲۵۰ داعش کے ارکان کو امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے چنگل سے چھڑایا اور مہمان خانوں میں لے گئے۔

اتمر نے یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا تاکہ خوارج کو امارت اسلامیہ کے خلاف ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکے اور کسی حد تک وہ  اپنے اس میں کامیاب بھی ہوا، کیونکہ خوارج نے اپنے ظہور کے بعد مشرق اور شمال میں استعمار کے خلاف جاری جہاد کو متاثر کیا اور مجاہدین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی۔

اتمر مغربی اور علاقائی ممالک کا جاسوس

اتمر مغربی اور علاقائی انٹیلی جنس کی کٹھ پتلی تھا، امارت اسلامیہ کے پہلے دور حکومت میں وہ بعض اداروں میں کام کر رہا تھا لیکن استعمار کے آنے کے بعد وہ فورا ہی مغربی اتحاد کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ چند سال بعد، اس نے ’’ہم بستگی مشاورتی گروپ‘‘ (Hamdastagi Consulting Group) کے نام سے ایک کمپنی قائم کی، جس کا بنیادی کام افغانستان کی داخلی صورت حال کے بارے میں تحقیقات کی تیاری اور غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کے لیے پراجیکٹس حاصل کرنا تھا۔ اتمر نے اس کمپنی کے ذریعے غیر ملکیوں کے لیے تحقیق کے نام پر جاسوسی اور پراجیکٹس کے ذریعے لاکھوں ڈالر کمائے لیکن اپنی کمائی اور کمپنی کے منافع کے باوجود وہ خود کو غریب سمجھتا تھا اور اس نے ایک عرب ملک کے لیے بھی جاسوسی شروع کر دی۔

افغانستان پر قبضے کے دوران اس ملک کی افغانستان میں دیگر عرب ممالک کی نسبت زیادہ انٹیلی جنس سرگرمیاں تھیں۔

مذکورہ ملک کے حکام افغانستان میں اپنے ایجنٹوں سے ضروری معلومات حاصل کرتے تھے اور اس کے بدلے میں انہیں ڈالر دیتے تھے۔ ان تمام امور کی نگرانی کابل میں اس ملک کے سفارت خانے کے ذریعے کی جاتی تھی۔

۱۴ مارچ ۲۰۱۷ء کو کابل میں مذکور ملک کے سفارت خانے نے اپنے ۶۰ افغان ملازمین کی فہرست، جس میں ان کا نام، ملازمت کا مقام، فائل کوڈ، انٹیلی جنس رجسٹریشن نمبر، اور ماہانہ تنخواہ کا تخمینہ شامل تھا، مذکورہ ملک کی انٹیلی جنس کو بھیجی، اس فہرست میں اتمر کیلئے بھی کچھ رقوم کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

۱۳ دسمبر ۲۰۱۸ء کو اس ملک کے سفارت خانے سے ۸۰ افراد کی تفصیلات پر مشتمل ایک فہرست انٹیلی جنس کے سربراہ کو بھیجی گئی اور اس سے کہا گیا کہ وہ ان لوگوں کو رقم اور ماہانہ تنخواہ ادا کریں۔

فہرست میں سب سے زیادہ تنخواہ حنیف اتمر کی لکھی گئی تھی جو بائیس ہزار امریکی ڈالر تھی۔  سب سے کم تنخواہ (۱۲۰۰ ڈالر) اس وقت کے ماندگار اخبار کے چیف ایڈیٹر نظری پریانی کے لیے مختص کی گئی تھی۔

معلومات کے مطابق اس تنخواہ کے علاوہ، اتمر کو ایک بار ۳۲۰،۰۰۰ (تین لاکھ بیس ہزار) اور دوسری بار پندرہ لاکھ ڈالر بھی ادا کیے گئے۔

اتمر کی اب پلاننگ کیا ہے؟

ایک مشہور مقولہ ہے کہ غلام جب ایک آقا سے جدا ہو جاuy تو وہ دوسرے آقا کی تلاش میں رہتا ہے۔ اتمر کی زندگی بھی ایسی ہی ہے۔  کسی زمانے میں وہ خاد نامی بدنام زمانہ کمیونسٹ تنظیم کا ملازم تھا اور وہ مغربی سامراج کے خلاف جنگ کا نقارہ بجاتا تھا، جب کمیونزم کا خاتمہ ہوا تو اس نے خود کو مغرب کے گود میں ڈال دیا اور اس کے لیے جاسوسی شروع کردی اور ساتھ ہی اس نے مقامی انٹیلی جنس کے ساتھ یارانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔

وہ امارت اسلامیہ کی آمد کے ساتھ ہی یہاں سے چلا گیا اور اب جرمنی میں اس کوشش میں ہے کہ امن و انصاف لانے کے نام پر ملک کو ایک بار پھر انٹیلی جنس اور اغیار کی جنگ کی طرف لے جائے اور ماضی کی طرح جعلی تحقیقات اور دوروں کے ذریعے خوارج کو أفغانستان میں طاقتور دکھائے اور اس کے ذریعے اپنی پرانی حکمت عملی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرلے۔