ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے

احمد منصور

عام طور پر حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے انہیں ممکنہ خطرات سے بچائیں اور دور جدید میں یہ ذمہ داری ہم سے وابستہ ہے، کیونکہ ہمیں جو نعمت حاصل ہوئی ہے وہ بہت قیمتی ہے۔

ہم دشمنوں کے مکر و فریب سے آگاہ ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسلام انہیں قطعا قابل قبول نہیں، تاہم ہم پھر بھی ایسے نظام کے نفاذ کا دعویٰ کرتے ہیں۔

زیادہ دور نہیں جاتے، گزشتہ صدی کے نصف سے اب  جو اسلامی فکر رکھنے والا بھی باطل کے بنائے گئے طریقے ’’انتخابات‘‘ کے ذریعے اقتدار تک پہنچا، بہت جلد اسے مسند اقتدار سے گرا دیا گیا یا گرانے کی کوششیں کی گئیں۔ مرسی کی فتح اور اردگان کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ لیکن یہ لوگ صدیوں تک بھی اقتدار میں رہیں، ہم آج نفاذ شریعت کے جس مقام پر ہیں، وہ پھر بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ تو سوچنے کی بات ہے کہ کفر ان کے ایسے ملے جلے نظام کو برداشت نہیں کر سکتا، تو ہمارا خالص نظریاتی نظام جو ان کی مرضی اور باطل کے بنائے گئے اقتدار میں آنے کے طریقہ کار کے بغیر قائم ہوا، کیسے برداشت کر سکتا ہے؟

عالمی برادری بالخصوص امریکہ، اسرائیل اور روس کی یوکرین، فلسطین اور یمن میں مشغولیت ہمارے لیے موقع ہے اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے خود کو بچانے کے لیے طریقے تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یوکرین میں روسی پیش قدمی اور فلسطین میں حماس کی ثابت قدمی ایسے ہی جاری رہی تو زخمی لومڑی امریکہ پوری طرح گر جائے گی۔

۲۰۲۰ء میں ایک پیشین گوئی بھی کی گئی تھی کہ امریکی اقتصاد کو سخت چوٹ پہنچے گی۔ افغانستان میں امریکہ شکست کھانے کے بعد اپنی عوام کے سوالوں اور تنقید کا سامنا کر رہا ہے، اسرائیل جو امریکہ پر انحصار کرتا ہے، متزلزل حالت میں ہے، اور یمن میں حوثیوں کی طرف سے بڑی عالمی تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش امرکہ کے اقتصادی، سیاسی اور عسکری برجوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔

امریکہ نے کوشش کی کہ حوثیوں کو دبانے کے لیے اپنے ساتھ دس ممالک، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے، کا اتحاد قائم کرے، لیکن ان ممالک کی بے دلی اور سرد مہری نے امریکہ کو سخت پریشان کیا ہے۔

مندرجہ بالا حقائق پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ مغربی بلاک جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے، زوال اور تنزل کی حالت میں ہے، تو پھر اس کے بعد سپر پاور کا مسند کون سنبھالے گا؟ البتہ میری رائے میں اتنا کہنا کافی ہو گا کہ مستقبل کے قصائی جغرافیائی طور پر ہمارے بہت قریب ہوں گے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر شعبے میں تیزی سے پیش رفت کریں، اپنے اجتماعی ورثے کی حفاظت کریں اور علاقائی، قومی اور لسانی تعصبات پر مبنی روایات کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔

ضروری اور اہم یہ ہے کہ ہم اپنی محتاجیوں کا ادراک کریں، محتاجی کمزوری کے برابر ہے، اور طاقتور اپنی کمزوریوں پر قابو پاتا ہے۔

انسان تدبیر اور منصوبہ بندی کرنے کا مکلف ہے، لیکن تقدیر کے فیصلے کیا ہیں اس کا ہمیں علم نہیں۔

واللہ اعلم