ہم داعشیوں کو خوارج کیوں سمجھتے ہیں؟

نعمان غزنوی

خوارج کون ہیں؟

جنگِ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے لشکر کا ایک گروہ تھا جس نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ پر کفر کا بہتان لگایا اور ان کے خلاف بغاوت کی۔ انہیں مسلمانوں کے خلیفہ کے خلاف جانے کی وجہ سے خوارج کہا جاتا ہے اور وہ تمام لوگ جنہوں نے حکمت کو مانا اور حضرت علی کرم اللہ وجھہ کو کافر نہیں مانا ان کو بھی کافر سمجھتے تھے۔

کوفہ کی مسجد میں انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

کوفہ سے نکل کر نہروان جاتے ہوئے انہوں نے کئی بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے ان پر یہ حجت تمام ہو جانے کے بعد ۳۸ ہجری کو ان کے خلاف جنگ کی جن میں ان کی بڑی تعداد ماری گئی۔

عصر حاضر کے خوارج (داعشی) اور ماضی کے خوارج کے درمیان تکفیر کے معاملے میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ ماضی کے خوارج نے مسلمانوں کے برحق خلیفہ اور امام کو کافر کہا اور وہ لوگ جنہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی اتباع کی انہیں بھی کافر اور مباح الدم گردانا۔ موجودہ خوارج (داعشی) ان تمام مسلمانوں کو، چاہے وہ امت کے علمائے کرام ہوں، کہ اہل رائے اور اہل نظر لوگ ہوں، اگر ان کی اتباع نہ کریں، تو یہ ان کو مرتد کہتے ہیں۔

وہ صوفیہ اور صوفیہ کے چاروں برحق طریقوں کے ائمہ کو مشرکین کہتے ہیں، اسی طرح تصوف کو صریح کفر اور شرک کہتے ہیں، اس کے علاوہ جو بھی صوفیہ کو کافر نہ سمجھے، انہیں بھی کفار اور منافقین کی فہرست میں شمار کرتے ہیں۔ دیوبندی مسلک کے علماء جو صوفیہ کے احترام کے قائل ہیں، انہیں بھی مشرکین گردانتے ہیں۔

چاروں مذاہب کی تقلید کے حوالے سے داعشی خوارج کا عقیدہ یہ ہے کہ تقلید کتاب و سنت کی اتباع کے مقابلے میں ایجاد شدہ عقیدہ ہے، یہ تعصب، تفرقہ بازی اور باہمی اختلافات کا باعث ہے اور ہم ان مذاہب کی تقلید سے لوگوں کو منع کرتے ہیں۔

ان کے عقیدے کے مطابق وہ تمام حکومتیں جو اسلامی ممالک میں موجود ہیں، یہ سب مرتد حکومتیں ہیں اور ان کے حکمرانوں کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ان حکومتوں کی اعلیٰ سطح اور نچلی سطح کی فوج، پولیس، قانون ساز، قانون کی تنفیذ کرنے والے، فیصلہ کرنے والے جج، ان کو جواز فراہم کرنے والے مفتی اور ٹیکس دہندگان، ووٹرز، ان کے فیصلوں پر راضی ہونے والے، ان سب کو مرتد سمجھا جاتا ہے، چاہے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہوں، روزے رکھتے ہوں، حج پر جاتے ہوں اور زکوٰۃ دیتے ہوں، اس طرح ان حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آنے والی تمام رعایا کو مرتد سمجھتے ہیں، وہ ان علاقوں کے سوا جہاں خود ان کا وجود ہے تمام اسلامی ممالک کو دار الکفر گردانتے ہیں۔

جہاد کے حوالے سے داعشی خوارج کا عقیدہ یہ ہے کہ کفار اصلی کی طرح اسلامی ممالک میں موجود تمام حکومتوں سے جہاد بھی فرض عین ہے، ان کے عقیدہ کے مطابق ان کا ضرر کفارِ اصلی سے کہیں زیادہ اور کئی گنا ہے، اسی لیے وہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے قتل عام کو اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جتنے بھی مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں، انہیں اس آیتِ کریمہ کی سند پر قتل کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ

ترجمہ: انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔

اس لیے ہمارا بھی یہ عقیدہ ہے کہ داعشی عصرِ حاضر میں خوارج کا سب سے غلیظ ورژن ہیں اور ان کو تباہ کرنا تمام مسلمانوں کا مشترکہ فریضہ ہے۔