گزشتہ دو سال میں امارت اسلامیہ افغانستان کی کامیابیاں

قلب الاسد افغانی

کسی نظام کو بالکل صفر سے شروع کرنا، محدود وسائل کے ساتھ اس کے لیے فنڈز مہیا کرنا اور قلیل مدت میں تمام دنیا کی توقعات کے برخلاف اسے تقریبا پوری طرح اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا، مخلص لوگوں کی مخلصانہ کاوشوں کے بغیر ناممکن ہوتا ہے۔

کیونکہ اس سے قبل ہم نے بہت سے نام نہاد افغانوں کو افغانیت کے لباس میں دیکھا کہ تمام تر امکانات کی موجودگی کے باوجود بھی افغانستان کے لیے کسی بنیادی کام کی طرف بھی پوری طرح مائل نہیں ہوئے اور نہ ہی افغانوں کے اساسی مسائل کے حل کی راہ نکالی۔

لیکن امارت اسلامیہ افغانستان نے ملکی خوشحالی اور بہبود کے لیے پورے دل سے توجہ دی اور ملکی سطح پر امن قائم کر کے ملک کی خوشحالی و شادابی کے لیے کام کیا۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں امن مخالفین کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بے جا پراپیگنڈہ ہے، کیونکہ مخالف گروہ اور تنظیمیں تو اب پہلے سے بھی زیادہ ہیں، جو مختلف ناموں سے امارت اسلامیہ افغانستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ملک میں امن کی اصل وجہ حکومت کے ساتھ عوام کا مکمل تعاون اور مدد اور اسی طرح ملکی سلامتی کے حوالے سے مجاہدین کا بھرپور عزم ہے۔

دوسری طرف اگر ہم سابقہ نظاموں اور حکومتوں پر گہری نگاہ ڈالیں تو موجودہ نظام کے مقابلے میں ان کے لیے امکانات بے شمار تھے لیکن عوام کے کسی اساسی کام کے لیے بھی زمین ہموار نہیں کی گئی، اور نہ ہی ملک کے لیے کوئی عملی بنیادی اقدامات کیے گئے، جبکہ اس کے برعکس امارت اسلامیہ افغانستان نے قلیل امکانات کے ساتھ ملکی خوشحالی کے لیے ہر شعبے پر خصوصی توجہ دی اور کام شروع کیے، ملک کے اہم منصوبوں پر عمل درآمد کیا، ڈیم بنائے، نہریں کھودیں، بہت سے صوبوں میں بڑی تعداد میں چوراہوں کی تعمیر کی، عوام کے لیے بالواسطہ یا براہ راست روزگار کے مواقع پیدا کیے، متاثرہ ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کی، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے سہولیات فراہم کی گئیں، کیونکہ ہر سال ہزاروں سیاح سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد کے لیے کھانے پینے اور علاج کی جگہیں فراہم کیں۔ خارجی ممالک کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات بحال کیے، سخت دباؤ کے باوجود اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور معاشرے میں افغانوں کی رضا کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے ایک مضبوط ںظام قائم کیا اور ہر شعبے میں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کیا۔

یہ ہم نے موجودہ نظام کے کارناموں میں سے ان مختصر سطور میں چند مثالیں پیش کی ہیں۔