داعشی خوارج اور تاجکستان

ماہر بلال

#image_title

داعشی خوارج کی تمام کوششیں اسلام کو کمزور کرنے کے لیے ہیں، لہٰذا جس قدر ممکن ہو سکے ہمیں داعشی خوارج کے افعال و افکار کی تحقیق کر کے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

اس وقت داعشی خوارج کی کمزوری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، یہ فتنہ گر گروہ ہر طرح سے مومنین کے ساتھ دست و گریباں ہے، ان کی خراسان شاخ کے ۹۰ فیصد قائدین امارت اسلامیہ افغانستان کی قوی افواج کی کاروائیوں سے مردار ہو چکے یا زندہ پکڑے جا چکے ہیں۔ دیگر دنیا میں دیگر مخلص مجاہدین کے ہاتھوں بھی یہ نشانہ بنے اور ختم ہوئے ہیں۔ داعشی خوارج کی اس کمزوری نے داعشیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان حکومتوں سے مالی و جانی تعاون خیرات کے طور پر حاصل کریں جو ان کے منہج کے مطابق مرتدین اور مشرکین ہیں۔ اس وقت داعش کے اسی خیرات مانگنے کی برکت ہی تھی کہ تاجکستان داعشی خوارج کے ساتھ تعاون کے لیے آگے بڑھا۔

تاجکستان، پاکستان اور بعض دیگر کافر ممالک کی داعشی خوارج کے ساتھ حالیہ دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ تاجکستان کفار کی رہنمائی سے اور داعشی صدقہ خوروں کی طرف سے خیرات مانگنے کے بعد داعشیوں کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کر رہا ہے۔ ایشیا کی سطح پر داعشی گروہ میں اکثریت تاجکستانی خوارج کی ہے۔ خوارج کے تاجک نژاد شہری داعشیوں کے ہر حملے میں شریک ہوتے ہیں۔ ایران، افغانستان اور ترکی حملوں میں بھی زیادہ تاجکی داعشی ہی شریک تھے۔

داعش کے گروہ میں تاجک شہریوں کے اضافے کی کیا وجہ ہے؟ ایسا بھی نہیں ہے کہ تاجکستان داعش سے بہت محبت کرتا ہے، اور بلا معاوضہ اس کے ساتھ اتنی دوستیاں نبھا رہا ہے۔ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ ہے اور تاجکستان اور داعش ایک دوسرے سے کچھ چاہتے ہیں۔ اگر موجودہ حالات پر غور کریں تو یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ در حقیقت مغرب کے حکم پر ہی تاجکستان اب داعش کے ساتھ زیادہ تعاون کر رہا ہے۔ یہود اور دیگر مغربی کفار تاجکستان کو داعش کے ساتھ تعاون کے بدلے میں ضرور سبز باغ دکھا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ داعش کے ساتھ آج اتنی زیادہ ہمدردی دکھا رہا ہے۔

داعشی خوارج کے ساتھ تاجک شہریوں کے تعاون سے داعش نے ترکی میں استنبول پر حملہ کیا۔ حملے میں ایک شخص ہلاک اور بعض دیگر زخمی ہوئے۔ جب پولیس نے کاروائی کی، مجرمین کو پکڑا تو مجرمین میں سے ایک فرد تاجک شہری نکلا۔ اس حملے سے قبل افغانستان اور ایران میں حملوں میں ہر بار تاجک نژاد افراد کو استعمال کیا گیا تھا۔

حالیہ اور سابقہ حملے داعش جس مقصد کے لیے کر رہی ہے وہ واضح ہے۔ استنبول، ترکی میں داعش کے حملے کا مقصد ان مسلمانوں کی سرگرمیوں کو کمزور کرنا تھا جو وہ فلسطین کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے دیگر حملوں کا حکم داعشی خوارج کو ان کے آقاؤں (اسرائیل، یہود) کی طرف سے دیا جاتا ہے، جس کی تعمیل داعش بھرپور انداز میں کرتی ہے۔