داعشی خوارج کی امت سے خیانت

مسلمانان محترم! جیسا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا اور فرمایا:

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

ترجمہ: تم پرجنگ کرنا فرض کیا گیا ہے، اور وہ تم پر گراں ہے، اور یہ عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا سمجھو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو، اور (اصل حقیقت تو) اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔

الحمد للہ عرب و عجم سرزمینوں میں اسلام کے حقیقی پیروکار جہاد کے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں برسر پیکار ہیں اور ہمیشہ اسلام دشمنوں کو عبرت آمیز اور تاریخی سبق سکھاتے رہتے ہیں، ان میں سے کچھ فتح کی سرحدوں کو چھو چکے اور کچھ اس کے قریب ہیں ان شاء اللہ۔

کفر کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ اپنے مذموم منصوبوں اور سازشوں کے ذریعے اسلام کے ان راست باز پیروکاروں کا راستہ روکیں، ان سازشوں میں سے ایک اہم سازش دور حاضر میں تشکیل پانے والے داعشی خوارج ہیں۔

جیسا کہ افغانستان میں امریکی جارحیت پسندوں کے قبضے کے دوران داعشی فتنہ گر امارت کے خلاف لڑ رہے تھے اور امارت کے قبضے میں آنے والے علاقوں کو پھر سے قبضہ کر رہے تھے، اسی طرح آج کل یہی کھیل جزیرۃ العرب اور دیگر اسلامی خطوں میں بھی شروع کر چکے ہیں۔

جس طرح امریکی جارحیت پسندوں کا جھنڈا افغانستان میں سرنگوں ہوا، اسی طرح وہ وقت دور نہیں کہ جب صومالیہ میں بھی صلیبی جھنڈا سرنگوں ہو جائے گا۔ لیکن یہ صلیبی جھنڈا جہاں سرنگوں ہونے لگتا ہے، وہاں پھر موساد کا فتنہ گر گروہ داعش ایک بڑی جنگ کا آغاز کر دیتا ہے اور اپنی کاذب خلافت کے نام پر صلیب کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول اسلام کے سچے پیروکاروں کا راستہ روکتا ہے۔

جیسا کہ چند روز قبل القاعدہ کی شاخ الشباب نے اطلاع دی کہ حال ہی میں ان کے قبضے میں آنے والے علاقوں پر داعشی خوارج نے حملے کیے ہیں جس سے القاعدہ کی شاخ الشباب کے مجاہدین کو جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ داعش نے ایسا کردار ادا کیا ہو بلکہ ایسی خباثتیں وہ افغانستان، عراق، شام اور یمن میں بھی کر چکی ہے تاکہ صلیبی جارحیت پسندوں کی دسیسہ کاریاں اور منصوبے ناکام نہ ہو سکیں۔

یاد رہے کہ داعش کبھی نہیں چاہتی کہ اسلامی خطوں میں امریکی و برطانوی مفادات کے خلاف ایسی طاقت کھڑی ہو جائے جو انہیں نقصان پہنچائے۔

جزیرۃ العرب اور دیگر اسلامی خطوں میں جاری اس کھیل کی نگرانی اور کنٹرول بنیادی طور پر اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس سب کے باوجود داعش امت کی وحدت اور خلافت کا دعویٰ بھی کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ مخلص جہاد سے محبت کرنے والے مجاہدین کا راستہ بھی روکتی ہے اور ان کے خلاف ناحق جنگ کرتی ہے۔

 (داعش غدر خیانة اجرام دولة النفاق في العراق والشام)