داعشی خوارج، گالیوں اور بدزبانی کے عادی

ماہر بلال

عموماً کسی کے اخلاق اور صفات کا علم تب ہوتا ہے جب کسی بحث یا سفر میں اس سے واسطہ پڑ جائے۔ ذاتی طور پر میں نے بہت سے لوگوں  اور بہت سے نظریات والوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر بحثیں کیں اور بہت سی عجیب چیزیں میں نے دیکھی اور سنیں۔ میرا بحثوں میں ان سے بھی سامنا ہوا جو اسلام اور اسلامی خلافت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ دعویٰ سراسر جھوٹا ہے اور فریب پر مبنی ہے۔

ایک وقت تھا کہ داعش کے نام سے میں نیا نیا متعارف ہوا تھا، سوچتا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہوں گے، کس راستے کے راہی ہوں گے، اور مخالف فریق کے ساتھ ان کا اخلاق کیسا ہو گا؟ ان سوالات کے جوابات مجھے آہستہ آہستہ ملے، داعشی خوارج کے مسلمانوں کے خلاف مظالم نے واضح کر دیا کہ یہ باطل کے چیلے چانٹے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالآخر ان کی ساری ظاہری اصلیت مجھے معلوم ہو گئی،  پھر جب  میں نے حضرت محمد ﷺ کی احادیث پڑھیں، تو معلوم ہوا کہ وہ خوارج جنہیں رسول اللہ ﷺ نے قتل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا وہ اصل میں ان داعشی خوارج کے اوّلین قائد اور رہبر تھے۔ ”لئن ادرکتهم لاقتلنهم قتل عاد“

داعشی خوارج خود کو محمدی دین کے راہی اور محمد ﷺ کے اصلی وارث کہتے ہیں لیکن ان بے خبر لوگوں کو علم نہیں کہ محمد ﷺ کے اخلاق کیسے تھے۔ کوئی شخص اپنے دین سے اس قدر بے خبر ہو اور پھر خود کو دین کا اصلی مدعی گردانے تو کیا وہ اپنے اس مدعا میں سچا ہو سکتا ہے؟

ہرگز نہیں!

ایک طرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، جو کفار کے ساتھ بھی نہایت نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ فرماتے تھے، جبکہ دوسری طرف خلافت اور محمدی اخلاق کے دعویدار، جو بحث و مباحثہ میں صرف اور صرف تکفیر کے ٹھپے لگانے، بے عزتی کرنے، مردہ انسانوں کے خلاف بد زبانی کرنے، بحث میں مد مقابل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور گالیاں دینے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔

یہ سب بری عادتیں ان خوارج کی خاص صفات اور اہم کام ہیں۔

میرے پاس ایسے بہت سے ثبوت موجود ہیں کہ کیسے داعشی خوارج لوگوں پر گالیوں کو بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ پہلے انسان سوچتا ہے کہ کافی باشعور لوگ ہیں، لیکن جب ان لوگوں کو نظر آتا ہے کے مقابل شخص ان کا مخالف ہے تو مقابل کو الجھانے اور موضوع سے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک فضول حربہ استعمال کرتے ہیں۔ بات کے آغاز سے آخر تک بہت سے مختلف موضوعات پر بات چھیڑیں گے اور مختلف طرح کے دلائل مانگیں گے تاکہ داعشی خوارج کی حقیقت پوشیدہ رہے اور دلائل کو مبہم انداز میں رد کر دیا جائے۔ اس کے باوجود بھی اگر ان کے ساتھ بحث جاری رکھی جائے تو تکفیر، ارتداد اور گالیوں پر اتر آئیں گے۔ پھر اگر اس سے بھی کام نہ بنے تو قتل کی دھمکیاں دینے لگیں گے اور یہ سب کام ان کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں۔ باطل ہمیشہ اپنا بطلان مبہم چیزوں میں چپھانے کی کوشش کرتا ہے، جیسے داعشی خوارج کرتے ہیں۔

آپ خوارج کے شائع کردا مضامین اور تحریریں دیکھیں، آپ کو وہ مسلمانیت اور انسانیت سے خارج، گالیوں کے عادی اور دیگر برے کردار والے ہی نظر آئیں گے۔

یعنی خوارج دیگر تمام برائیوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی کمزور ہیں اس لیے میری نظر میں ان سے بحث کرنا مطلقا وقت کا ضیاع ہے اور بس…

کیونکہ نہ تو بحث میں ان کی اپنی تسلی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ کسی کی تسلی کروا سکتے ہیں۔

جو شخص فسق و فساد کا عادی ہو تو اس کے منہ سے ہمیشہ اسی کی بدبو آتی رہے گی، جیسے داعشی خوارج جو ہمیشہ گالیں ہی بکتے رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ اس گروہ کے اخلاقی انحطاط کی طرف نشاندہی کرتا ہے، اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ داعش میں دیگر معاملات میں زوال کی طرح اخلاقی زوال بھی شروع ہے لیکن حقیقت میں یہ اخلاقی پستی ان میں ہمیشہ سے موجود تھی جو ان کے دیگر معاملات میں زوال کی بڑی وجہ بنی۔

داعشیوں کی اخلاقی پستی دیگر امراض سے بھی پہلے سے ان سے تعامل کرنے والے مسلمانوں پر واضح تھی لیکن اب اللہ کی مدد سے سب کو نظر آنے لگی ہے۔