داعش امر اللہ صالح کے مہمان خانے سے شہری کاروائیوں تک | دوسری قسط

عمر شہید

کچھ عرصہ قبل داعش سے وابستہ تاجک افراد نے ایران کے شہر کرمان میں کاروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ المرصاد کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کے اس حملے میں شامل حملہ آور تاجک شہری تھے۔ بعد میں ایرانی انٹیلی جنس کی تحقیقات کے بعد بھی یہی ثابت ہوا کہ اس حملے کے مرتکب تاجک شہری تھے۔

حال ہی میں ایرانی میڈیا کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص عادل پنجشیری نامی داعش کا سابق جنگجو تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ایران کے اس دعوے میں کس حد تک صداقت ہے، عادل پنجشیری کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں سابقہ حکومت میں داعش سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا اور پھانسی کے حکم کے بعد امر اللہ صالح کی سفارش پر اشرف غنی کی جانب سے رہا کر دیے گئے۔

عادل پنجشیری داعشی نظریہ رکھنے والے ان درجنوں افراد میں سے ایک ہے جو سابقہ حکومت  میں امر اللہ صالح اور نیشنل سکیورٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ان کے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے تھے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی افغانستان پر فتح اور افغانستان میں مثبت تبدیلی آنے کے ساتھ وہ لوگ جنہوں نے ارگ میں امر اللہ صالح کے مہمان خانے میں تربیت پائی تھی، پڑوسی ممالک کی طرف فرار ہو گئے اور وہاں سے اپنی کاروائیاں شروع کر دیں اور انتشار پھیلانے کے لیے منصوبے تشکیل دیے گئے جن میں تاجک شہری کو استعمال کیا جانا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس کے اپنے اعتراف کے مطابق امر اللہ صالح ان کے جاسوسوں میں سے تھا اور ان کے لیے خدمات سرانجام دیتا تھا۔ لیکن امریکیوں کی خدمت اور ان کی قربت حاصل کرنا سابقہ حکومت کے ہر اس اعلیٰ عہدیدار کا ہدف تھا جو اپنی حفاظت چاہتا تھا اور اس طریقے سے وہ لوگ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرتے تھے۔

امر اللہ صالح کی امریکیوں کے لیے خدمات میں سے ایک داعش کو تربیت دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جن سے وہ اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا تھا۔ بہرحال امریکہ کے تعاون سے اور امر اللہ صالح کی سربراہی میں ارگ کے مہمان خانوں سے داعش کی قیادت کی گئی اور انہیں منصوبے فراہم کیے گئے اور اب وہ دنیا کے لوگوں کے لیے آفت بن چکے ہیں۔