داعش اور پاکستان: حقیقت کیا ہے؟ | دوسری قسط

گزشتہ تحریر میں ذکر ہوا کہ پاکستان امارت اسلامیہ یعنی موجودہ نظام کے مخالفین کو افغانستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

زیر نظر تحریر میں اس پر بات ہو گی کہ پاکستان نے طالبان کے حوالے سے اپنی مثبت امیدوں کو اس قدر گہری اور حساس دشمنی میں کیوں بدل دیا؟

ڈیورنڈ لائن افغانستان اور پاکستان کے درمیان  تقریبا دو ہزار چھ سو چالیس (۲،۶۴۰) کلومیٹر طویل سرحد ہے، جسے آج تک نہ تو افغان حکومت کی جانب سے اور نہ ہی سرحد کے دونوں طرف آباد قوموں کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سرحد کو امیر عبد الرحمن خان کی جانب سے ۱۸۹۳ء میں سو سال کے لیے تسلیم کیا گیا تھا، جس کا وقت مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن پاکستان چاہتا ہے کہ مذکورہ لائن کو رسمی سرحد کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ پاکستانی حکام کو امید تھی کہ طالبان اس بات کا مثبت جواب دیں گے، لیکن طالبان حکام نے بہت واضح انداز میں یہ بات رد کر دی اور اسے ایک فرضی لکیر قرار دیا۔

دوسرا بنیادی مسئلہ جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہوا وہ دریائے کنڑ کے حوالے سے ہے۔ یہ خیال نہیں کیا جا رہا تھا کہ طالبان اس حوالے سے اتنا بڑا معاشی منصوبہ شروع کر دیں گے، لیکن جب دریائے کنڑ کے سروے اور ڈیم بنانے کی خبریں میڈیا پر نشر ہوئیں تو یہ سب کچھ پاکستان کے لیے ایک اندیشے میں تبدیل ہو گیا۔ چونکہ کنڑ کا پانی اب تک بلا روک ٹوک پاکستان کی طرف بہہ رہا ہے اور وہ اس سے بجلی اور زراعت کے میدان میں آزادانہ طور پر استتفادہ کر رہا ہے، ایسے میں پاکستان موجودہ نظام کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ پاکستان کے لیے افغانستان اقتصادی اعتبار سے بہت اچھا صارف ملک ہے۔ اس کی ادنیٰ درجے کی مصنوعات، جن کی دیگر دنیا میں کوئی منڈی نہیں، افغانستان میں فروخت ہوتی ہیں۔ اگر افغانستان میں امن و استحکام آ جاتا ہے تو افغان بذات خود متحرک لوگ ہیں، وہ بہت جلد ترقی و پیش رفت کی راہ پر چل نکلیں گے اور اسے پاکستان اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

اس طرح افغانستان میں عدم استحکام میں پاکستان کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ میری نظر میں پاکستان کے لیے یہ اہم نہیں کہ افغانستان میں اسلامی حکومت ہے یا کفریہ، امارت اسلامیہ ہے یا جمہوریت، بلکہ جو بھی حکومت افغانستان کی خود کفالت و خود انحصاری کے لیے کام کرے، پاکستان اس کی مخالفت کرے گا، یہاں انتشار اور جنگ چاہے گا، یا ایسی حکومت چاہے گا کہ بالکل پاکستان کی خواہشات کے مطابق کام کرے۔

چونکہ طالبان نے مذکورہ بالا حالات میں پاکستانی فیصلوں کو کسی قسم کی ترجیح نہیں دی ، اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ موجودہ نظام کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرے، وہ بھی داعش جیسے بدنام زمانہ منصوبے کے ذریعے، جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان شاء اللہ۔