داعش کی پس پردہ بانی سپر پاور

محمد صادق طارق

ادارہ المرصاد نے داعش اور اس کے پس پردہ مدد گاروں کا اصل چہرہ بے نقاب کیا، تاکہ انسانیت دشمن سب کو نظر آجائیں اور وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں مزید رسوا ہو سکیں۔ لیکن بد قسمتی سے اس حقیقت کو تسلیم کرنا اتنا آسان نہیں، اسی لیے ضروری سمجھا کہ اس سپر پاور کے بارے میں بات کی جائے جو پس پردہ داعش کی مدد کرتی ہے اور داعش کے عملی وجود کا باعث ہے۔

اگرچہ امریکہ برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرتا چلا آ رہا ہے اور اس دعویٰ کے ساتھ کئی ممالک کے داخلی معاملات میں اس نے مداخلت بھی کی، یہاں تک کہ بعض ممالک پر حملے بھی کیے اور فوجی اڈے قائم کیے۔ بعض افشا ہونے والی دستاویزات نے امریکی دہشت گردی کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بعض خفیہ دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بلاشبہ امریکہ دنیا میں داعش کے منصوبے کا معمار اور بانی ہے۔

’’گلوبل ریسرچ سنٹر‘‘ نے ’’واشنگٹن بلاک‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’داعش کی خلافت کا منصوبہ امریکہ میں تشکیل پایا تھا۔‘‘ اس ویب سائٹ کے مطابق امریکی حکومت کی سرکاری دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ داعش کی تشکیل میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔

گلوبل ڈیٹابیس کے ایڈیٹر نے اپنے خصوصی مضمون میں ذکر کیا ہے کہ: ’’مئی ۲۰۱۵ء میں پہلی بار ایسی دستاویزات شائع کی گئیں جن سے نہ صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کو امریکی انٹیلی جنس نے تشکیل دیا، بلکہ اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ خلافت منصوبے کا تصور واشنگٹن میں گھڑا گیا تھا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ سابق امریکی صدر ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نے اوبامہ انتظامیہ پر ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا جو بعد میں داعش میں تبدیل ہوئے۔ ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا اور کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ’’ہیلری کلنٹن‘‘ بھی داعش کے بانیوں میں سے ایک ہے۔

امریکی ریپبلکن سینیٹر ’’رینڈ پال‘‘ (Rand Paul) نے بھی اپنی تقریر میں داعش کے ساتھ امریکی خفیہ تعلقات کا انکشاف کیا اور کہا: ’’داعش شام میں ہمارا اتحادی تھا، ہم نے اس کے ملیشیا کو ہتھیار دیے، تاکہ یہ دمشق حکومت کی وفادار فوج کو پیچھے دھکیل سکے اور ہم نے اس گروہ کے لیے شام میں محفوظ پناہ گاہیں بنائیں۔‘‘

روسی حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ داعش کو امریکہ نے بنایا اور اس کی مدد کی، اسی لیے امریکی فوج نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباریاں بھی کیں۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ’’ماریہ زخارووا‘‘ (Maria Zakharova) نے کہا: ’’یہ حقیقتاً ایک خطرناک معاملہ ہے کہ وائٹ ہاؤس داعش کی مدد کرتا ہے۔‘‘

آخر میں فیصلہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں کہ ایک ایسا ملک جو سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پس پردہ فتنہ گر گروہوں کو تشکیل دیتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے، کیا یہ اس کی کمزوری ظاہر نہیں کرتا؟ واضح ہے کہ وہ اب مزید اپنے سیاسی، عسکری اور اقتصادی حریفوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا، اسی لیے اسے اپنے مفادات کے حصول کے لیے  پس پردہ ایسے گروہوں کی مدد کرنی پڑتی ہے۔