داعش کی میڈیا سرگرمی اور سوشل میڈیا ورکرز

ماہر بلال

موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بہت اہمیت ہے، آج کل لوگوں کی اکثریت کو میڈیا تک رسائی حاصل ہے اور اس کے توسط سے وہ دنیا کی ہر نئی خبر سے آگاہ رہتے ہیں۔

فکری جنگ یا بالفاظ دیگر سرد جنگ کی بنیاد بھی سوشل میڈیا پر پڑتی ہے، مغرب ماضی کی نسبت آج عسکری جنگ کی جگہ فکری جنگ کو خاص اہمیت دے رہا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں اپنے افکار اور نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کا یہ ایک آسان راستہ ہے۔

میڈیا اور معلومات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آئیں اپنے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔

مغرب عسکری جنگ کی جگہ فکری جنگ کو ز یادہ اہمیت دیتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وہ آسانی کے ساتھ اپنے ناپاک مقاصد حاصل کر سکتا ہے، اسی مقصد کے حصول کے لیے مغرب نے اپنے نیچ درجے کے غلاموں کے لیے اس سلسلے میں سہولتیں بھی پیدا کر رکھی ہیں، مثال کے طور پر انہیں اپنی سرگرمیوں کی آخری حد تک اجازت دی جاتی ہے، ان کی سرگرمیوں کے بدلے انہیں مالی معاونت بھی کی جاتی ہے، کبھی کبھی کفار اپنے غلاموں کی خاطر میڈیا پر پراپیگنڈہ بھی کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں، افغانستان میں داعش بہت بڑھ گئی ہے، کبھی کہتے ہیں، بہت امکان ہے کہ داعش نامی گروہ پھر سے قوی ہو کر ابھرے۔

داعشی میڈیا تحریک اگرچہ اب سر نگوں ہو چکی ہے اور بہت سے مسلمانوں کی پاکیزہ جدوجہد کے نتیجے میں تقریباً فنا ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

داعشی میڈیا ورکرز کی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو رنگا رنگ ناموں اور مختلف طریقوں سے ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس تناظر میں، میں ان لوگوں کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو سوشل میڈیا پر داعش کی حمایت کرتے ہیں، ٹوئٹر (ایکس)، فیس بک، یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر داعش کی حمایت وہ لوگ کرتے ہیں جو یا تو افغانستان کی سابقہ سقوط شدہ جمہوری حکومت کے کھلے عام اہلکار تھے، یا دیگر خفیہ جاسوس جنہیں خود داعشی بھی مرتد کہتے ہیں، لیکن اب یہ مرتدین داعشی خوارج کے لیے میڈیا پراپیگنڈہ کا کام سرانجام دیتے ہیں، اور داعش کی جانب سے ان کی تعریف کی جاتی ہے، مشرک اور مرتد کی جگہ انہیں داعشی ورکرز کی طرف سے صاحب اور محترم کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

جعلی ورکرز کا ایک اور گروہ ہے جو ابو فلاں بن فلاں جیسے جعلی ناموں کے ساتھ پیجز چلانے کا کام کرتا ہے، لوگ ان کی موجودگی سے خوفزدہ ہوتے ہیں، لیکن ان پیجز کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کی زیادہ تعداد ان کی ہے کہ جو داعشی منہج کے مطابق مرتدین اور مشرکین گردانے جاتے ہیں، لیکن اگر وہ داعش کے لیے کام کرتے ہیں تو پھر داعش کے لیے محترم اور مکرم ہیں چاہے وہ کھلے عام جاسوس ہی کیوں نہ ہوں۔

(عزام کی جمہوری حکومت کے الیکشن کمیشن میں ڈیوٹی تھی اور اب داعش کے لیے میڈیا اور دیگر اہم کام سرانجام دیتا ہے۔)

دوسری بات:

داعش اور دیگر اسلام دشمن گروہوں کی میڈیا تحریک زیادہ تر پاکستان، تاجکستان اور بھارت سے چلائی جاتی ہے، اور یہ سب پھر مذکورہ ممالک کی قریبی نگرانی میں کام کرتے ہیں، انہیں پاکستان اور تاجکستان کی طرف سے سرکاری فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ دولت اسلامیہ نامی گروہ کے لیے سرگرمیاں اور ان کے لیے ذہن سازی کریں۔

بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ داعش کے میڈیا مضامین، نشریاتی چینلز اور بعض ویڈیو پروڈکشنز پاکستان اور تاجکستان میں بااعتماد لوگ تخلیق اور نشر کرتے ہیں، کیونکہ پاکستان اور تاجکستان میں روز بروز داعشی خوارج کی موجودگی بڑھتی جا رہی ہے اور بعض جگہوں پر انہیں مسلح حالت میں دیکھا بھی گیا ہے۔

اس بات کے ثبوت کے لیے داعشی خوارج کے گرفتار شدہ ارکان کے وہ اعترافات کافی ہیں جس میں وہ خود کہتے ہیں کہ تاجکستان میں ہمیں ڈالر فراہم کیے جاتے تھے۔ تو کیا یہ ڈالر بلا وجہ دیے جا رہے تھے؟ اگر نہیں تو ان ممالک کی داعشیوں سے کیا توقعات ہیں؟