داعش کی میڈیا جنگ کا بھی خاتمہ

طاہر احرار

دورِ حاضر میں، جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے، جنگوں نے بھی اپنا روپ بدل کر سائنس اور ٹیکنالوجی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔

دورِ حاضر میں ذہنی ہتھیار جسمانی ہتھیاروں سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کو اس وقت تک ہتھیاروں سے شکست نہیں دی جا سکتی جب تک کہ ذہنی طور پر لوگوں کو اس کے لیے تیار نہ کر لیا جائے۔

اس مقصد کے لیے مغرب نے افغانستان سمیت دیگر کئی ممالک میں میڈیا کا استعمال کیا اور افغانستان کی مجاہد قوم کو دھوکہ دینے کے لیے کثیر سرمایہ کاری کی۔ لیکن الحمد للہ مجاہدین نہ ہونے کے برابر وسائل اور امکانیات کے ساتھ میڈیا کے محاز میں اترے اور مغرب کو ایسا جواب دیا کہ اسے ہمیشہ یاد رہے گا، اور ساتھ میں اپنی قوم کو بھی میڈیا کی دہشت سے آزاد کروا لیا۔

مغرب کو جب اپنی شکست سامنے نظر آنے لگی تو اس نے اپنے کچھ غلاموں کو داعش کے نام سے افغانوں کو قتل کرنے پر آمادہ کر لیا اور ان کی مالی معاونت شروع کر دی۔ اس مالی معاونت کے ساتھ اسے میڈیا میں اتنی شہرت دی گئی کہ دنیا کا ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ داعش کو جاننے لگا۔ لیکن داعش نے اپنے مظالم کی وجہ سے شام اور عراق میں شکست کھا کر افغانستان کا رخ کیا تھا۔ یہاں ان کا معاملہ اس قدر رسوا کن تھا کہ ان کی مکمل امداد غیر ملکی کر رہے تھے، سفر کے لیے ان کو ہیلی کاپٹر فراہم تھے اور رات گزارنے کے لیے عالی شان ہوٹلوں می کمرے دیے گئے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر ان کو مشہور کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئیں تھیں۔

مجاہدین سخت عسکری اور سیاسی دباؤ میں آگئے لیکن امارت اسلامیہ افغانستان کے سپاہیوں نے اپنے حوصلے بلند رکھے اور داعش کے مقابلے میں میدان میں اتر آئے۔

یہ داعشیوں کے مظالم، مظلوموں کی آہیں اور مجاہدین کی قربانیاں ہی تھیں کہ جن کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت حاصل ہوئی اور ذلیل غلام دشمن نے میدان جنگ میں شکست کھائی۔ اس کے بعد مجاہدین نے اعلامی میدان میں بھی ان کا تعاقب کیا۔ آپ گواہ ہیں کہ اب ان کا نام سوشل میڈیا اور نشریات سے بھی ختم ہوتا جا رہا ہے اور وہ اس میدانِ جنگ میں بھی شکست کھا چکے ہیں۔

بالخصوص المرصاد چینل نے حقیقت اور اصلیت کو واضح کیا ہے اور انہیں مظلوم افغانوں کے سامنے شرمندہ اور رسوا کر دیا ہے۔

الحمد للہ