داعش خراسان کی ۹۰ فیصد قیادت کا خاتمہ

نعمان ھروی

چونکہ داعش ایک اجرتی، تکفیری،  فتنہ گر اور فساد پسند گروہ ہے، اس لیے اس نے ہمیشہ حق کے لشکروں سے شکست ہی کھائی ہے۔ امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے سے قبل زابل، فراہ، غور، جوزجان، ننگرہار اور کنڑ  میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے بالمقابل انہیں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اور اپنے قبضے کے تمام مراکز سے ہاتھ دھو بیٹھے, اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ جب استعماری طاقت اور اس کے غلام بالواسطہ طور پر ان کے ساتھ تعاون بھی کر رہے تھے، اور ان کے خلاف لڑے جانے والے مقدس غزوات کے دوران  استعماری طاقت نے فضا سے مجاہدین پر بمباریاں کیں، اور اس کے غلاموں نے انہیں بچانے کے لیے اپنی زمینی و فضائی افواج روانہ کیں۔ اسلامی امارت کے اقتدار میں آنے کے بعد  ان کے خلاف تند و تیز کاروائیوں کے نتیجے میں ، داعش خراسان اپنی ۹۰ فیصد قیادت سے ہاتھ دھو بیٹھی اور اس کی افرادی قوت کی اکثریت بھی ختم ہو گئی۔ داعش خراسان کے وہ قائدین اور کمانڈر جو پچھلے ڈھائی سالوں میں مارے گئے ان کا ذکر درج ذیل ہے:

  1. شیخ ضیاء الحق ضیاء: شیخ ابو عمر خراسانی کے نام سے مشہور تھا۔ داعش خراسان  کا سابق گورنر، اور  مکتب الصدیق یا پراپرٹی مینجمنٹ (املاک کے انتظام) کا ذمہ دار تھا۔ فتح کے دن مارا گیا۔
  2. اسلم فاروقی: داعش خراسان کا سابق گورنر۔ صوبہ بلخ میں مارا گیا
  3. مولوی ضیاء الدین (محمد): داعش خراسان کا سابق گورنر، بعد میں داعش خراسان کا قضاء و دعوت کا ذمہ دار۔ صوبہ بلخ میں مارا گیا۔
  4. انجینئر عمر (حیدر): داعش خراسان کے مرکزی زون کا سابق ذمہ داراوربعد میں  نائب امیر۔ کابل شہر میں مارا گیا۔
  5. قاری فاتح: داعش خراسان کا نائب امیر ، کاروائیوں کا انتظامی ذمہ دار۔ کابل شہر میں مارا گیا۔
  6. ڈاکٹر حسین: داعش خراسان کا جنوبی اور جنوب مغربی زون کا ذمہ دار اور خود کش حملوں کی ترتیبات کا مرکزی ذمہ دار۔ ہرات شہر میں مارا گیا۔
  7. احسان اللہ: عمر فاروق کے نام سے مشہور تھا۔ شمال مشرقی اور شمال مغربی زون کا ذمہ دار، تاجکستان اور ازبکستان میں راکٹ حملوں کی ترتیبات کا ذمہ دار، قندوز شہر میں مارا گیا۔
  8. یونس ازبک: تخار کا ذمہ دار۔ صوبہ تخار کے صدر مقام پر مارا گیا۔
  9. قاری سلیم: تخار کا ذمہ دار۔ صوبہ تخار میں تاجکستان کی سرحد کے قریب مارا گیا۔
  10. مصطفیٰ درویش زادہ: ہرات کا ذمہ دار۔ صوبہ ہرات میں مارا گیا۔
  11. فیروز: لغمان کا ذمہ دار۔ صوبہ لغمان میں مارا گیا
  12. یوسف تاجک: میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا اہم ذمہ دار۔ کابل شہر میں خیر خانہ کے علاقے میں مارا گیا۔
  13. یحییٰ تاجک: دعوتی امور کے انتظامات کا ایک اہم ذمہ دار۔ کابل شہر میں خیر خانہ کے علاقے میں مارا گیا۔

اس کے علاوہ کئی دیگر اہم اداروں کے ذمہ داران اور آپریشنل کمانڈرز زندہ گرفتار کر لیے گئے اور ان کے سینکڑوں افراد بھی یا تو مارے گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔ مارے جانے والوں میں تاجکستان کے ۳۷ شہری، پاکستان کے ۲۵ شہری، اور کئی دیگر ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں  تاجکستان کے دو درجن شہری، پاکستان کے ساڑھے چار درجن شہری اور کئی دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق داعش خراسان کے بعض قائدین جو اب تک پکڑے یا مارے نہیں گئے وہ افغانستان سے باہر پڑوسی ممالک میں چھپے ہوئے ہیں۔

  1. ثناء اللہ غفاری: شہاب المہاجر کے نام سے مشہور ہے۔ داعش خراسان کا نام نہاد گورنر ہے۔
  2. صلاح الدین: داعش خراسان میں مکتب الصدیق یا پراپرٹی مینجمنٹ (املاک کے انتظام) کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ درحقیقت داعش میں نفوذ شدہ  ایک مغربی انٹیلی جنس ایجنسی  کے سیل کا سربراہ ہے۔
  3. قاری معاویہ: داعش میں سابقہ نظام کی نیشنل سکیورٹی کے ادارے  کی طرف سے گھسا ہوا اور بڑے رتبے کا جاسوس ہے۔
  4. سلطان عزیز عزام: داعشی خوارج میں گھسا ہوا ایک پڑوسی ملک کا جاسوس اور متشدد تکفیری ہے۔ اور اب داعش کے پراپیگنڈہ کا کام سنبھالتا ہے۔

اس وقت داعشی افغانستان میں دب چکے ہیں۔ ۱۴۴۴ھ  میں داعش کے حملوں میں ۷۵ سے ۹۰ فیصد تک کمی آئی تھی اور رواں سال ۱۴۴۵ھ کے ابتدائی مہینوں میں داعش کے حملوں میں ۹۵ فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ اس کی ایک اچھی مثال یہ ہے کہ داعش نے ۲۰۲۴ء کے نئے سال کے آغاز سے ہی دنیا بھر میں کاروائیوں کا اعلان کیا ہے اور اب تک ۱۰۲ حملے کر چکی ہے، جن میں سے صرف دو معمولی حملے افغانستان میں عوام پر کیے گئے ہیں۔ المرصاد کو انٹیلی جنس ذرائع سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق  ان حملوں کے ذمہ دار حملہ آور  بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔

اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں داعش کی ۹۰ فیصد قیادت ختم ہو چکی،وہ اپنی افرادی قوت بھی کھو چکی، اور اب داعش خرسان کا ہیڈکوارٹر افغانستان سے باہر ہے، اور چونکہ اب وہ افغانستان میں حملوں کی صلاحیت کھو چکی ہے اس لیے اس کی زیادہ توجہ دیگر دنیا پر مرکوز ہے۔