داعش خراسان کے حوالے سے تین نکات

محمد صادق طارق

داعش خراسان وہ گروہ ہے جو افغانستان میں جنوری ۲۰۱۵ء میں اس وقت وجود میں آیا جب عراق اور شام میں داعش کی وحشتناک سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ اور اس وقت جب افغانستان میں کٹھ پتلی نظام حکومت کر رہا تھا انہوں نے اس ملک کے کچھ صوبوں میں اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ اس حوالے سے تین نکات میرے ذہن کے قرطاس پر نمودار ہوتے ہیں۔

1. خراسان کا نام

پہلا نکتہ خراسان کا نام ہے۔  چونکہ داعش عالمی خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتی ہے، اس لیے خراسان کے نام کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس گروپ کے ارکان افغانستان، وسطی ایشیاء کے ممالک اور ایران کو ملا کر خراسان کے تاریخی خطے پر تسلط کا ہدف رکھتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق خراسان افغانستان کا قرون وسطیٰ کا نام ہے جس میں موجودہ افغانستان، شمال مشرقی ایران، جنوبی ترکمانستان اور ازبکستان اس کے ساتھ پاکستان کا بھی ایک حصہ شامل ہے۔

اس لیے ’’داعش خراسان‘‘ کا گروپ ایک عالمی نظریہ رکھتا ہے جو نہ صرف افغانستان کی مقامی ملیشیاؤں پر مشتمل ہے بلکہ اپنے سماجی ڈھانچے میں کسی بھی اور ملک کے شہریوں کو بھی قبول کرتا ہے۔ ڈپلومیٹ نے داعش خراسان کے حوالے سے ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اس گروہ کا اصلی حامی افغانستان سے باہر ایشیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والا غیر ملکی ارکان کا نیٹ ورک ہے۔

2. عوام میں خوف کی ٖفضا

افغانستان کی مسلمان قوم کے اندر خوف پیدا کرنا دوسرا نکتہ ہے کہ کیا خراسان میں داعش کے مظالم سے افغان عوام کی داعش کے خلاف لڑنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے؟ اس حوالے سے ذکر کرتے چلیں کہ داعش کی خراسان شاخ جیسے غیر ملکی دہشت گرد گروپوں کی موجودگی اور قیام کے بارے میں لوگوں کو خوفزدہ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جس کا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو کم و بیش چار دہائیوں سے ایسی ہی چالوں کا شکار ہے۔ وقت کی سپر پاورز نے تعمیرِ نو اور امداد کے نام پر افغان عوام پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے۔ امریکہ اور نیٹو کے مظالم کے بعد اب افغان عوام کسی چیز یا جگہ کے کھونے سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ ’’جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ کچھ کھونے سے بھی نہیں ڈرتا۔‘‘ لیکن اس حوالے سے معقول اندیشہ یہ ہے کہ خراسان میں داعش کے مسئلے سے خطے کے اور دیگر بیرونی ممالک کا مقصد کیا ہے؟ اور کیا واقعی داعش خراسان امارت اسلامیہ کے حکومت میں آنے کے بعد افغانستان میں اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ خراسان میں داعش کو کنٹرول کرنا اور اس کے گمراہ افکار کے پھیلاؤ کو روکنا بہت سے ممالک کے مفاد میں ہے۔ اگر مذکورہ گروپ کو کچھ ممالک کی طرف سے حمایت اور تقیوت ملتی ہے تو پھر مستقبل میں اس کا نقصان صرف افغانستان کی سرزمین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنے گا۔

3. امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد داعش خراسان کی صورتحال

اب آتے ہیں تیسرے نکتے کی طرف کہ افغانستان میں امارت اسلامیہ کے حاکم ہونے کے بعد ’داعش خراسان‘ ابھی بھی پوری طرح سرگرم ہے یا اس کی جڑیں سوکھ چکی ہیں؟ اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ طالبان حکام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں داعش اور دیگر گروہ شکست کھا چکے ہیں۔ اسی لیے وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت اور حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جب انہیں موقع ملتا ہے عام شہریوں پر حملہ کرتے ہیں، لیکن سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے ذریعہ فوراً ان کا سراغ لگا لیا جاتا ہے اور انہیں ختم کر دیا جاتا ہے۔

بعض ممالک کو داعش کو مضبوط کرنے، اس کی حمایت کرنے اور اس کو وسعت دینے میں اپنا مفاد نظر آتا ہے۔ وہ بظاہر تو داعش خراسان کی سرگرمیوں میں اضافے کے حوالے سے پریشان ہیں، لیکن امارت اسلامیہ کے مرکزی ترجمان کے بقول، اس حوالے سے پریشان ہونا اصل میں داعش کے حق میں پراپیگنڈہ ہے، کیونکہ امارت اسلامیہ داعش کو دوبارہ افغانستان میں اس طرح اپنے سیلز بنانے کی اجازت نہیں دیتی جس طرح جمہوری نظام کے دور میں ان کے سیلز موجود تھے۔

داعش خراسان کے اصل میں حامی اور بظاہر مخالفین، جو افغانستان میں حالات کشیدہ کرنے کی کوشش میں ہیں، جب داعش کے خلاف امارت اسلامیہ کے پختہ عزم کو دیکھتے ہیں تو ان کے پاس حقائق کو تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارا نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے یوناما کی طرف سے ایک نئی رپورٹ میں، جو بروز جمعہ نشر ہوئی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے افغانستان کے بارے میں کہا کہ اس ملک میں مسلح مخالفین کے حملوں میں کمی آئی ہے۔ ایک ایسی حقیقت جو بہت پہلے سے موجود تھی لیکن اسے تسلیم کرنے کی عالمی برادری میں ہمت نہیں تھی لیکن بالآخر آج وہ اسے ماننے پر مجبور ہو گئے۔