داعش کے خلاف جنگ کی روداد | تیسری قسط

معاذ بدر

داعشیوں کے خود کش حملے

مورچوں میں موجود داعشیوں کے پاس جب اسلحہ کم ہونا شروع ہوگیا تو ایک داعشی نے،  جس نے بارودی جیکٹ پہن رکھی تھی، اچانک مجاہدین کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ مجاہدین پر خودکش حملہ کر دے،  لیکن راستے میں ہی طالبان نے اس کو قتل کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ داعشیوں کا طریقۂ جنگ یہی ہے کہ ہر مورچے میں کچھ بارودی جیکٹوں سے لیس جنگجو موجود ہوتے ہیں، جو جنگ کے وقت طالبان کی طرف دوڑ لگا دیتے  ہیں تاکہ خودکشی کر سکے اور ساتھ ہی مجاہدین بھی شہید ہو جائیں۔ خوارج میں یہ عجیب و غریب قسم کی خصلت ہوتی ہے کہ وہ کفار کی بجائے مسلمانوں پر سخت ہوتے ہیں۔ خیر صبح ہوتے ہی طالبان واپس اپنے مرکز میں آگئے ۔

بارود کی ضرورت

داعشیوں نے مقامی لوگوں کے جن کچے گھروں میں پناہ لی ہوئی تھی،  ان پر طالبان نے ہر قسم اسلحہ آزمایا لیکن ان کی دیواروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا (اس کی وجہ یہ ہے کہ حفاظت کی نیت سے مٹی کی یہ دیواریں اتنی چوڑی بنائی جاتی ہیں کہ عام گولی وغیرہ ان پر کوئی اثر نہیں کرتی)۔ دیواروں کو توڑنے  اور مورچوں کے اندر گھسنے کے لیے  بارود سے بہتر کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔

بارود کی تیاری

جنگی مسئول نے ہمارے مسئول کو اپنے پاس بلا کر بارود کی تیاری کے لیے  مشورہ کیا۔  مشورے کے بعد بارود کا سارا کام ہمارے حوالے کر دیا گیا۔  بارود کا سامان تو ہمارے حوالے کر دیا گیا، لیکن  سامان میں ربڑی دستانے نہیں تھے۔  ایک مجاہد کو بازار بھیجا لیکن اسے دیر ہو گئی اور ساتھیوں نے انتظار کی زحمت گوارا نہیں کی  اور بغیر دستانوں کے ہی بُشکوں  (پلاسٹک کے کَین) کوبارود سے بھر دیا اور تیار حالت میں رکھ دیا۔  وقت ذرا گزرا تو  بارود نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ پہلے پہل تو چھینکوں کا آغاز ہوا جو  اس حد تک بڑھا کہ جس کو دیکھو بستر پر پڑا ہوا ہے۔  ساری رات سخت سر درد،  سر چکرانا،  پورے جسم میں درد کی سخت لہریں  اور قے آنے والی کیفیت۔  جس کو دیکھو طبیعت خراب ہے۔  خیر اللہ  اللہ  کر کے رات گزر گئی۔  اگلی صبح بُشکوں کو پھاڑنے کے لیے  عارضی بیٹریاں بھی بنا دیں اور ٹریپ(trap) بھی بنا دیے۔  متعلقہ شعبے کو اطلاع دے دی گئی کہ  آپ لوگوں کا سامان تیار ہے ، لے جاؤ۔  جس قطعے کی ذمہ داری تھی وہ آ کر سامان  لے گئے۔

جنگ سے پہلے، جنگی مسئول کاخطاب

پانچ  ماہ ہو گئے تھے طالبان  ایک علاقے میں جنگ کر رہے تھے۔  چوٹی فتح  ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔  پیش قدمی ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔  اس کی وجہ یہ تھی  کہ داعشیوں نے چوٹی پر چڑھنے والے تمام راستوں پر مائن کاری کی ہوئی تھی (یعنی بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں) جس کی وجہ سے کئی طالبان زخمی و شہید ہو چکے تھے۔  جنگ سے پہلے جنگی مسئول نے مجاہدین کو ایک مسجد میں اکٹھا کیا اور خطاب کیا۔  خطاب تو کافی طویل تھا مگر اس کی کچھ باتیں یاد ہیں ، ذمہ دار نے کہا:

’’آخر کیا وجہ ہے کہ  اتنے دن ہوگئے چوٹی فتح ہونے کا نام نہیں لے رہی؟  ہم حق پر بھی ہیں  لیکن وہ جنگ کرتے ہیں تو ہم پسپا ہو جاتے ہیں! یہ شہدا  کے خون کے ساتھ وفا کرنے کا وقت ہے۔ آج امریکیوں نے ہمیں ادھر داعشیوں کے ساتھ مصروف کر دیا ہے۔ امریکہ ہمیں کہتا ہے: مجھے نائن الیون والے ہلاک شدگان نہیں بھولے۔  اس نے تو ہمارے ملکوں میں تقریباً بیس سال قتل و غارت کی ہے،  وہ ہم کیسے بھول جائیں؟  کل اس نے ایک طالب شہید کیا ہے،  ہم اس کو کیسے بھول جائیں؟ جب وہ بیس سال پہلے والے اپنے مقتولین نہیں بھول سکتا تو ہم اپنے آج کے شہدا کیسے بھول جائیں؟

ہمارے لیے  تو یہ بڑا امتحان ہے کہ یہ بچ جانے والے امریکی ہماری نظروں کے سامنے زندہ سلامت وطن واپس چلے جائیں۔ اگر اللہ مجھے طاقت دے تو میں امریکہ کو اس کے اندر جا کر ماروں گا!‘‘

خطاب ختم ہونے کے بعد رو رو کر  فتح و نصرت کے لیے  دعائیں  مانگی گئیں۔  اگلی صبح جنگ پر جانے سے پہلے قرآن کا ختم کیا گیا اور شہدا کے لیے  قرآن خوانی کی گئی۔  ایک دفعہ پھر اس ذاتِ باری تعالیٰ  کا در کھٹکھٹایا گیا جس سے ساری امیدیں وابستہ ہیں ۔ دعا کے بعد مجلس برخاست ہو گئی۔  اس کے کچھ دیر بعد میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے اس مسئول کو دیکھا کہ قرآن ہاتھ میں پکڑ کر واسطے دے کر اللہ رب العزت سے دعا مانگ رہا ہے۔  مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ کی نصرت ضرور آئے گی۔

جاری ہے…!