داعش کا جنسی نشہ | پہلی قسط

خادم شیرزاد

داعش خود کو دنیا اور وقت کا سب سے خالص مسلمان کہتی ہے اور عالمی اسلامی خلافت کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگرچہ وہ اس خود ساختہ خلافت اور جھوٹے اسلامی نظام کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ظلم و بربریت، قتل و غارت گری، قبروں اور قبرستانوں کو تباہ کرنے کے علاوہ لواطت اور زنا کی تاریخ بھی رکھتی ہے۔

داعش کے ظلم و بربریت کی داستانیں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں ہیں، اور میں نہیں سمجھتا کہ حشیشیوں اور قرامطیوں نے بھی اسلام کے نام پر اس قدر ظلم کیا ہو گ اجتنا کہ آج داعش نے کیا ہے۔

طلم اور قتل و غارت گری کے علاوہ داعش کی ایک اور خصوصیت بھی ہے اور وہ یہ کہ لڑکیوں اور عورتوں کو قید کرنے اور ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی شرمناک تاریخ رکھتے ہیں۔

ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق کہ داعشی جنسی تعلقات کے نشے میں مبتلا ہیں، داعش کے سابق اہم رکن اور داعش کی سرحدوں کے امیر ہیثم عبد الحمید جو کہ راشد المصری کے نام سے مشہور تھا اور پھر گرفتار ہوا، کے مصری ٹی وی چینل الوثیقہ کو دیے گئے ایک انٹرویو سے ہوتی ہے۔ جس میں اس نے کہا: ہمیں یہ اجازت دی گئی تھی کہ گرفتار کی گئی عورتوں کو یا تو قتل کر دیں، یا انہیں جنسی تعلقات کے لیے اپنے پاس رکھ لیں۔ داعش میں پکڑی گئی عورت دس ہزار ڈالر تک میں جنسی تعلقات کی خاطر فروخت کی گئی۔ اس نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ:

داعش کے بہت سے سرکردہ رہنما بے راہروی کا شکار تھے اور ان میں سے بہت پر حدود بھی جاری ہوئیں، ان میں سے ایک چیز یہ بھی تھی کہ بیرون ممالک سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے آنے والی عورتوں کو داعش کے سرکردہ ارکان نے جنسی زیادی کا نشانہ بنایا۔

۱۵ فروری ۲۰۱۷ء کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں داعش کے ایک جنگجو عمار حسین  جسے کردوں نے گرفتار کر لیا تھا نے کہا:

ہمارے قائدین نے ہمیں کہا کہ تمہیں عورتوں کی ضرورت ہے اور اپنی ضرورت پوری کرنے کا تمہارے پاس جواز ہے۔

اس نے کہا: میں نے خود ۲۰۰ سے زائد عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔

اس نے مزید کہا: داعش میں اجتماعی جنسی عمل عام بات تھی۔

۲۰۱۶ء میں مشہور برطانوی تحقیقی مرکز QUALLIAM  نے ایک رپورٹ شائع کی اور دلائل کے ساتھ یہ واضح کیا کہ: داعش کے ارکان کے قبضے میں اکتیس ہزار حاملہ خواتین زندگی گزار رہی ہیں۔

جاری ہےٟ…!