داعش کا جنسی نشہ | تیسری قسط

خادم شیرزاد

عراقی لیڈی ڈاکٹر نغم نوزت نے مصری جرنلسٹ صلاح لبن کو ایک انٹرویو دیا، اس نے اپنے انٹرویو میں کہا:

جب داعش نے عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر جب دوبارہ یہ علاقے داعش سے پاک ہو گئے، تو میں ان ڈاکٹروں میں شامل تھی جو ان زیر قبضہ علاقوں میں کام کے لیے گئے، تاکہ وہاں قید سے آزاد ہوئے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

اس نے مزید کہا:

میں نے ۱۲۰۰ لڑکیوں اور عورتوں کا علاج کیا اور ان سے میں نے پوچھ گچھ بھی کی۔ ان ۱۲۰۰ لڑکوں اور عورتوں کے ساتھ کم از کم ایک بار جنسی زیادتی ہوئی تھی،  اور کچھ تو ان میں ایسی بھی تھیں، جن کے ساتھ اجتماعی زیادی کی گئی تھیں، ان کے علاج میں ہمیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ بہت خوفزدہ تھیں۔

ان میں بعض ایسی لڑکیاں بھی تھیں جنہیں بازار میں انتہائی کم قیمت پر بیچ دیا گیا تھا۔

ںغم نوزت نے مزید کہا:

نوبل انعام یافتہ نادیہ مراد بھی رہائی پانے والے قیدیوں میں شامل تھی اور اس کا علاج میں نے کیا، اس نے بہت سی خوفناک کہانیاں سنائیں۔

ںغم نوزت نے کہا: جس جگہ ہم نے کام کیا، وہاں ۳۴۰۰ لڑکیوں اور عورتوں کو داعش کے چنگل سے آزاد کروایا گیا تھا، جن میں سے ۱۲۰۰ کا علاج میں نے اور میرے دیگر ساتھیوں نے کیا اور میں نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ ان رہا پانے والی عورتوں نے ہمیں بتایا کہ ۱۷۰۰ لڑکیوں اور عورتوں کی قسمت آج بھی غیر یقینی ہے۔

فاطمہ شوقی ایک جرنلسٹ ہے،اس نے ۲۰۱۷ء میں ھیام نامی ایک یزیدی لڑکی سے، جو داعش کی قید سے آزاد ہوئی تھی، انٹرویو کیا۔

ھیام نے اپنے انٹرویو میں بتایا:

میں نے داعش کی قید میں تین سال گزارے، کوئی دن ایسا نہیں تھا جب ہم پر تشدد یا ہمارے ساتھ جنسی زیادتی نہ کی گئی ہو۔

ھیام نے مزید کہا: ہمیں رقہ کے قریب ایک بڑے باغ میں رکھا گیا تھا، وہاں تقریبا تین ہزار دیگر لڑکیاں بھی تھیں، جنہیں یا تو لوگ آکر خریدتے تھے، یا پھر کوئی ایسا دن نہیں ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی نہ کی جاتی ہو یا وہ مار نہ کھاتی ہوں۔

ھیام نے کہا: میرے ساتھ میری بہن بھی تھی، لیکن وہ اب تک لاپتہ ہے اور میں بالکل نہیں جانتی کہ وہ کہاں ہے، زندہ بھی ہے یا مر چکی۔