داعش خراسان کا ہیڈ کوارٹر کہاں ہے اور اسے فنڈنگ کہاں سے ملتی ہے؟

نعمان ھروی

داعش نے پہلی بار پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے تیرہ میں اپنے وجود کا اعلان کیا۔ وہاں سے اس نے صوبہ ننگرہار کی فرضی سرحدی لکیر کے متصل اضلاع کے دور دراز علاقوں پر حملہ کیا۔ اس کے بعد داعش نے ولایت خراسان کا اعلان کر دیا جس کی حدود میں پاکستان، افغانستان ایران، مشرقی ترکستان اور وسطی ایشیائی ممالک شامل تھے۔ پاکستانی شہری حافظ سعید خان خراسان شاخ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ان کے زیادہ تر حملوں کا مرکز خیبر ایجنسی اور صوبہ ننگرہار کے ان پہاڑی علاقوں میں تھا جو فرضی سرحدی لکیر سے متصل اور ان کے قبضے میں تھے۔

حافظ سعید خان نے اس وقت دونوں طرف کی حکومتوں سے معاہدے کر لیے۔ ان معاہدوں میں ایک دوسرے کے خلاف حملے نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ درحقیقت یہ منصوبہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو مصروف کرنے اور کمزور کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا اور پھر اس علاقے میں اسے لانچ کیا گیا۔

۲۰۱۹ء میں ایک طویل جنگ کے بعد داعش کی خراسان شاخ کے مرکز کا اس علاقے سے سقوط ہو گیا، جس کے بعد داعشی شہروں میں منتقل ہو گئے۔ اس پورے عرصے میں داعشیوں نے نہ تو مغربی استعمار پر کوئی بڑا حملہ کیا اور نہ ہی ان کی کٹھ پتلیوں پر۔ بلکہ اپنے دیے گئے منصوبے کے عین مطابق داعشیوں نے اہل سنت علماء اور مغربی استعمار کے خلاف  برسر پیکار مجاہدین اور ان کے انصار و مددگاروں کو دہشت زدہ کرنے اور ان کا قتل عام کرنے میں مصروف رہی۔

امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد داعشیوں نے، جو اب شہروں میں وسیع سیل تشکیل دے چکے تھے اور سابقہ کٹھ پتلی انتظامیہ کے مہمان خانوں میں پل رہے تھے، ایک بار پھر کفار اور طواغیت کے اشارے پر تخریب کاریاں شروع کر دیں اور کئی اہل حق علماء، مجاہدین اور افغان عوام کا قتل عام کیا۔

امارت اسلامیہ افغانستان کی مجاہد سکیورٹی فورسز نے ان پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا، اور فیصلہ کن حملوں کے نتیجے میں پورے ملک میں یہ بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔ ان کے زیادہ تر آپریشنل نیٹ ورکس تباہ ہو گئے اور افغانستان کے لیے ان کے اہم رہنما مارے گئے۔ اب پورے افغانستان میں داعش کے کنٹرول میں نہ تو کوئی علاقہ بچا ہے اور نہ ہی کھلے مراکز۔

داعش خراسان کی قیادت اور کچھ بچے کھچے ذمہ داران اور کارکنان اب پڑوسی ممالک میں مقیم ہیں۔ خودکش حملوں کے لیے زیادہ تر افراد تاجکستان سے بھرتی کیے جاتے ہیں۔ افغانستان اور خطے میں ہونے والے تمام حملے اب افغانستان سے باہر ترتیب دیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر فنڈنگ یورپ سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے سے کی جاتی ہے۔ پراپیگنڈہ سرگرمیاں بھی افغانستان سے باہر سے کی جاتی ہیں۔ افغانستان میں حالیہ ماہ میں جو تاجک شہری گرفتار ہوئے، ان کی بھرتی اور تربیت بھی افغانستان سے باہر کی گئی تھی، حملوں کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے باہر سے کی گئی اور پھر انہیں افغانستان لانچ کیا گیا۔

اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب مزید افغانستان کی سرزمین پر داعش خراسان کی مرکزیت باقی نہیں بچی۔ جنہوں نے یہ منصوبہ ترتیب دیا، ان کی حمایت اور مدد کے ساتھ اب افغانستان سے باہر مراکز بنائے گئے ہیں۔ متعدد مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کے حوالے سے جو بیان بازی کرتی ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مغرب کی انٹیلی جنس ایجنسیاں داعش خراسان کی اصلی جگہ کو چھپانے کی خاطر ایسی افواہیں اور جھوٹی معلومات پھیلاتی ہیں۔

داعش کی افغانستان میں فکری جڑیں موجود نہیں، افغانستان میں پچھلے دو سال میں اس نے جتنے بھی حملے کیے، ان سب میں غیر ملکی شہری ملوث تھے۔ افغانیوں کو داعشیوں سے شدید نفرت اور بغض ہے۔

بعض انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران کے شہر کرمان میں ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد داعش کے ایسے گروپوں کے ذریعے کیا گیا جو ایران مخالف بڑے انٹیلی جنس اداروں نے متعدد مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے توسط سے تشکیل دیے گئے تھے اور ان میں تاجک شہریوں کو استعمال کیا گیا۔ قوی امکان ہے کہ انہیں دھماکہ خیز مواد اور دیگر وسائل بھی ایسے ایران مخالف انٹیلی جنس اداروں نے فراہم کیے ہوں جو ایران میں ایسے حملوں کا ہدف رکھتے ہیں اور جنہوں نے ماضی میں بھی ایران کے بہت سے سائنس دانوں اور ماہرین کو بھی قتل کیا۔

اور اب اس حملے کے پیچھے اصل عوامل عام لوگوں کے ذہنوں کو الجھانے کی خاطر داعش خراسان کے ہیڈ کوارٹر اور ان کی موجودگی کے حوالے سے غلط اور جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔