داعش کے سماجی ڈھانچے میں خواتین کا مقام و کردار

محمد صادق طارق

پوری تاریخ میں گمراہ تحریکوں کا ظہور اور پھیلاؤ ایک مسلسل چلنے والی اور معروف داستان ہے، لیکن دورِ حاضر میں داعش کو ایک متشدد خوارج اور تکفیری گروہ کے طور پر متعارف کروایا جا سکتا ہے، جو پڑھے لکھوں، ان پڑھوں، جرائم پیشہ افراد، مذہبی جنونیوں، بچوں، عورتوں اور پست فطرت لوگوں پر مشتمل ہے۔ داعش نے اپنے خوابوں کی خلافت کو کھڑا کرنے کی خاطر خواتین سمیت مختلف طبقوں کی رکنیت و شمولیت کو قبول کیا۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ عورتوں کا داعش کے سماجی ڈھانچے میں کیا مقام و کردار ہے، وہ کن عوامل کی بنیاد پر ان کی طرف راغب ہوتی ہیں اور انہیں کن چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے؟

درحقیقت دیگر گروہوں کے مقابلے میں داعش کے شریر گروہ کا سب سے نمایاں پہلو مشرق وسطیٰ اور اس کے علاوہ دیگر ممالک سے نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کی نمایاں موجودگی ہے۔ اگرچہ داعش کے زیادہ تر جنگجو جرائم پیشہ اور متعصب جنونی افراد ہیں، لیکن وہ بڑی تعداد میں عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کی طرف سے کیے گئے ایک جامع مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی خواتین کی ایک بڑی تعداد داعش میں شامل ہونے کے خطرے سے دوچار تھی، اس میں ۱۶ سے ۲۴ سال تک کی عورتیں نشانہ بنتی تھیں اور جو عورتیں ان کی صفوں میں شامل ہوتیں ان کی عمر ۱۳ سے ۲۱ سال کے درمیان ہوتی۔

وہ تمام عورتیں جو داعش کی صفوں میں شامل ہوئیں وہ دو طرح کی ہیں۔ یا تو وہ لڑکیاں ہیں جو مذہبی دلائل کی وجہ سے داعشی جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ شادی کر کے ان کی صفوں میں شامل ہوئی ہیں یا وہ لڑکیاں ہیں جو داعشی میڈیا کے دکھائے گئے خوابوں کا شکار ہوئی ہیں۔

خوارج کے مفتیوں کے فتووں کی بنیاد پر، خواتین خود کو جنگجوؤں کے لیے جنسی غلام کے طور پر بھی پیش کر سکتی تھیں، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں جنگجوؤں کی مایوسی کو ختم کرنا تھا، اس خبیث اور شرمناک فتوے کے نتیجے میں ایسے داعشی بچے پیدا ہوتے ہیں کہ جن کے باپ کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔

تجزیہ کاروں کے بقول دنیا کو دھمکانے کی خاطر داعش کی سب سے اہم لیکن طویل مدتی حکمت عملی داعشی عورتوں سے پیدا ہونے والے بچوں کا استعمال ہے، جنہیں وہ عدم استحکام اور خود کش حملوں کے لیے استعمال کریں گے۔

مشہور برطانوی تحقیقی مرکز QUILLIAM نے ۲۰۱۶ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اکتیس ہزار حاملہ خواتین داعشیوں کے کنٹرول میں زندگی گزار رہی ہیں۔

داعش کے سابق رہنماؤں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ قیدی خواتین کے معاملے میں ہمیں انہیں قتل کرنے یا جنسی تعلقات کے لیے استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

داعش کے ایک اہم رکن اور داعشی سرحدوں کے سابق کمانڈر ہیثم عبد الحمید جو راشد المصری کے نام سے مشہور ہے، مصر کے الواقیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتا ہے:

ہمیں اجازت دی گئی تھی کہ قیدی خواتین کو یا تو قتل کر دیں یا انہیں جنسی تعلقات کے لیے زندہ رکھیں۔ داعشیوں کے ہاتھوں پکڑی گئی ایک عورت جنسی تعلقات کے لیے دس ہزار ڈالر تک بھی فروخت کی گئی۔

اس نے مزید کہا کہ وہ عورتیں جو بیرونی ممالک سے آئیں اور داعش کی صفوں میں شامل ہوئیں انہیں داعش کے اہم ارکان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

داعش کا ایک فرد عمار حسین جسے کردوں نے گرفتار کیا اور اس کی فلم بنائی اس نے ۱۵ فروری ۲۰۱۷ء کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ہمارے قائدین نے ہمیں کہہ رکھا تھا کہ تمہیں خواتین کی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنا تمہارے لیے جائز ہے۔

اس نے مزید کہا کہ خود میں نے ۲۰۰ سے زائد عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے اور داعش میں اجتماعی جنسی تعلقات معمول کی بات تھی۔

اس طرح یہ بات واضح ہو گئی کہ عورتیں اور نوجوان لڑکیاں بڑے پیمانے پر داعش کے پراپیگنڈہ سے متاثر ہوتی ہیں اور پھر داعش کے سماجی ڈھانچے میں جنسی غلاموں کا کردار ادا کرتی ہیں