داعش، انسانیت کی بدترین دشمن

قلب الاسد افغانی

داعشی امارت اسلامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لوگ نامحرم عورتوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں، لیکن یہ خود اپنے کرتوتوں کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔ پشتو کا محاورہ ہے: ’’کوّا مردار کھاتا ہے لیکن چونچ اونچی رکھتا ہے۔‘‘ اگر تم لوگ اسلام پر اتنے پختہ عمل پیرا ہو پھر کیوں ہمیشہ غیر انسانی حرکتیں کرتے رہے ہو؟

داعش کے غیر انسانی افعال بے شمار ہیں، لیکن ہم یہاں کچھ مثالیں آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں:

اول: ۲۰۱۴ء میں عراق اور شام میں داعشیوں نے گیارہ سال کی کم عمر لڑکیوں کو باندی بنا کر اپنے پاس رکھا۔

دوم: ۲۰۱۸ء میں صوبہ جوزجان میں ۲۵۰ داعشیوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، ان میں زیادہ تر کم عمر لڑکے تھے، تو کیا داعش نے ان لڑکوں کو جنگ کے لیے رکھا تھا یا جنسی طور پر ہراساں کرنے کے لیے؟

سوم: ۲۰۲۲ء میں داعشیوں نے صوبہ جوزجان کے قوشتپہ اور درزآب اضلاع میں کم عمر لڑکیوں سے زبردستی نکاح کیے اور کم عمر لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایک کم عمر لڑکا جس کا عرفی نام عبداللہ ہے اس نے بتایا کہ داعشیوں نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے لیے اپنے فوجی مرکز میں بھیجا تھا۔

عبد اللہ نے مزید کہا کہ داعشیوں کے پاس پچاس کے قریب کم عمر لڑکے اور بھی تھے جن کے ساتھ داعشی جنسی زیادتی کرتے تھے۔

ضلع درز آب سے بے گھر ہونے والے خاندانوں نے بتایا کہ داعشی ان کے کم عمر بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے لیے اپنے فوجی مراکز میں لے گئے۔

ان کا صرف یہی کام نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے گروپ کو بڑھانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

۸ اگست ۲۰۲۳ء کو سلام ٹائمز نے ایک خبر نشر کی کہ کرد حکام نے المشارق کو بتایا کہ شمال مشرقی شام کے الہول کیمپ میں رہنے والی داعشی خواتین نوجوان لڑکوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ملاپ کریں اور انہیں حاملہ کریں، وہ یہ کام داعشی جنگجوؤں کی اگلی نسل کی پرورش کے منصوبے کے تحت کر رہی ہیں۔

نیز داعشیوں کا ضمیر اس قدر مردہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کی عورتوں تک کو نہیں بخشتے اور صرف اپنی شہوت پوری کرتے ہیں۔

۲۰۱۹ء میں کابل ڈاٹ کام نے شبانہ نامی ایک عورت کے حالات نشر کیے:

’’شبانہ: میرے شوہر کے جنازے کی رات میں داعش کے ایک اور رکن کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوئی۔ شبانہ کی عمر اس وقت ۲۱ سال ہے اور اس کے تین شوہروں سے تین بچے ہیں۔ وہ گزشتہ ماہ صوبہ ننگر ہار میں داعش کے کچھ خاندانوں کے ہمراہ حکومت کو تسلیم ہوئی اور اب اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن وزیرستان واپس چلی جائے۔‘‘

تو تم لوگ کس منہ سے امارت اسلامیہ پر الزام لگا سکتے ہو کہ یہ لوگ نامحرم عورتوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں؟ تمہارے ایسے غیر انسانی اقدامات تو اسرائیل بھی قبول نہ کرے۔ لیکن وہ دن بھی دور نہیں کہ جب تمہیں اپنے تمام کرتوتوں کا حساب دینا پڑے گا۔