داعش ہمیشہ راہِ حق سے منحرف رہی

عبد اللہ مسلم

داعش، وہ گروہ ہے جس نے حق اور صراط مستقیم سے انحراف کیا، افراط، انتہا پسندی اور غلو کو فروغ دیا اور ہر اس جگہ جہاں معمولی اختیار بھی حاصل ہوا، مسلمانوں کی املاک اور اثاثوں پر قبضہ کیا اور ان کی عزت و آبرو کو پامال کیا۔

داعشی کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں پر حملے کرنے کی بجائے بے گناہ مسلمانوں اور مجاہدین پر حملے کرتے رہے اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے میں جنت کا راستہ تلاش کرتے رہے۔ بلاشبہ  ایسا ہدف ناممکن اور پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ یہ مجاہدین اور عام مسلمانوں کو قتل کر کے اسلام، خلافت اور جنت کی خواہش کیسے کر سکتے ہیں؟

تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس فتنہ اور شیطانی گروہ کی کھل کر مخالفت کریں اور حسّاس اور کم علم نوجوانوں کو داعش کے جھوٹے اور بے معنی نعروں کے جھانسے میں نہ آنے دیں۔

داعش جھوٹی خلافت کا دعویٰ کرتی ہے لیکن جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ حقیقت میں اس کا اطلاق صرف عراق اور شام تک ہی ہوتا ہے۔ اپنی انتہا پسندی میں ایسے مگن ہوئے کہ اپنے نام کی تصحیح کرنا بھی بھول گئے۔

(قبحهم الله و اهلکهم کهلاک عاد و ثمود)۔

اے داعش کے ارکان! تمہارے نام نہاد اور گمنام قائدین نے تمہارے لیے جو راستہ بنایا ہے وہ سراب ہے، اسے چھوڑ دو، ایک سچے مسلمان کی طور پر زندگی گزارنا شروع کرو، ظلم سے بچو کیونکہ ظلم باقی نہیں رہتا۔ پوری تاریخ میں کفار کے گروہ اگرچہ کچھ وقت باقی رہے اور حکومت بھی حاصل کر سکے لیکن داعش جیسے ظالم اور خونخوار گروہ کبھی باقی نہیں رہ سکے اور نہ ہی حکومت حاصل کر سکے اور بہت کم وقت میں فنا ہو گئے۔ یہ داعش کے ارکان کے لیے سب سے آسان راستہ ہے ورنہ اس گروہ کے قائدین نے اپنے حق پر یا باطل پر ہونے کے حوالے سے مباہلہ کیا ہے اور جس نے بھی اس حوالے سے مباہلہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسے خاک میں ملا دیا۔ اس سے ان کے راستے کا باطل ہونا صاف ظاہر ہوتا ہے۔

اسلام افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کا دین ہے، اپنے پیروکاروں کو ہمیشہ یہی امر کرتا ہے کہ وہ (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ)، صادق، عادل، سچے، امانتدار، اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے بنیں، ظلم اور فحاشی سے بچیں، جھوٹ، خیانت اور فساد کو چھوڑ دیں۔

داعش اس اصل اصول (اشد علی الکفار رحماء بينهم) کی خلاف ورزی کرتی ہے، حتیٰ کہ یہودیوں، عیسائیوں اور امریکیوں سے بھی جنگ نہیں کرتی۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کسی کافر کا ناک تک زخمی نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور انہیں قتل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔