داعش عوام پر حملے کیوں کرتی ہے؟

طاہر احرار

داعش عوام پر حملے کیوں کرتی ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ ہر فتنہ آغاز میں بہت شور و غوغا کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے اور اس کا دبدبہ و شوکت ختم ہو جاتی ہے۔

عراق میں بھی داعش بہت طاقت کے ساتھ نمودار ہوئی، بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا، بڑی قوت حاصل کی، یہاں تک کہ بہت سی اسلامی تنظیموں کے کارکنان اپنی تنظیموں کو چھوڑ کر داعش میں شامل ہو گئے، اور آخر کار یہ فتنہ ہماری پاک سرزمین پر بھی پہنچ گیا۔

بد قسمتی سے اسلام اور خلافت کے نام پر بہت سے لوگوں کو اس نے گمراہ کیا، اور اسی نام پر ہزاروں نوجوانوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا، لیکن آخر میں حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی۔

مخلص لوگ داعش چھوڑ گئے، اب صرف مادہ پرست اور غیر ملکی جاسوس ہی داعش کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

یہاں افغانستان میں الحمد للہ داعش کو ایسی شکست ہوئی کہ اس کی تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ اب افغانستان میں داعش ایک تنظیم نہیں بلکہ چند غیر ملکی جاسوس اور چند دیگر ممالک کے زر خرید غلام ہیں جو وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔

وہ اسلامی امارت کی افواج کا سامنا کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھو چکے ہیں، جس کا ہم آج مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ میڈیا میں خود کو لانے اور خبروں میں خود کو زندہ رکھنے کی خاطر وہ عام اور نہتے لوگوں پر حملے کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، تاکہ کوئی فیس بک، ٹوئیٹر یا ٹی وی پر ان کا ذکر کر دے۔  لیکن ہمارا پختہ عزم و ارادہ اور اس قوم کا وقار بہت جلد اس فتنے کو اس طرح فنا کر دے گا کہ وہ پھر ایسے حملے کرنے کی جرأت کبھی نہیں کر پائیں گے اور یہ پاک سرزمین اس فتنے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ!