داعش: عصرِ حاضر میں جہالت و وحشت کی علمبردار

فیضان افغان

جہالت

جہالت اور وحشت دو عربی الفاظ ہیں جن کے مختلف معنی اور تعریفیں ہیں۔

جہالت کا لفظ جہل سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی لاعلمی کے ہیں۔ اسی طرح اہم معلومات اور حقائق کو نظر انداز کر دینے کو بھی جہالت کہتے ہیں۔ اہل لغت کی نظر میں علم کی کمی، غلط اور غیر حقیقی عقائد اور غلط عمل جہالت کے اصل معنی ہیں۔

اسلام سے قبل عرب میں قبائلی نظام سب سے اساسی نظام تھا، جس میں اخلاقی اقدار جیسے انسانی حقوق، جینے کا حق اور حقِ ملکیت کی تعریف قبیلے کے ذریعے ہوتی تھی، دوسرے قبائل کے باشندوں کا قتل، ان کی املاک کی چوری، اور جائیدادیں غصب کرنا غیر اخلاقی تصور نہیں کیا جاتا تھا۔

اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں حاتم طائی کے اخلاقی فضائل سامنے آئے کہ جب اسے مال غنیمت ملتا تو اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتا اور اسیر ہونے والے قیدیوں کو آزاد کر دیتا۔

اس کے علاوہ زمانہ جاہلیت میں اور بھی بری عادتیں تھیں، جیسے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا، کعبہ کا برہنہ طواف کرنا، شراب نوشی، فحاشی اور خونریزی وغیرہ۔ اس کے باوجود زمانہ جاہلیت کے عربوں میں مہمان نوازی، عہد کا پیماں اور جرأت جیسی ثقافتی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔

وحشت

اہل لغت کہتے ہیں کہ وحشت کا مطلب ظلم، دہشت اور ہولناکی ہے۔ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک کے افغانستان اور عراق پر حملے کے بعد عالمِ اسلام میں وحشتوں نے زور پکڑا۔ ان حملوں اور وحشتوں کے نتیجے میں عراق اور شام میں داعش کے نام سے ایک وحشی صفت گروہ ایک گمنام شخص ابو بکر بغدادی کی قیادت میں ابھرا۔ ابو بکر بغدادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد کے تحت چلنے والی تل ابیب اسلامی یونیورسٹی میں تربیت حاصل کی۔ داعشیوں نے پورے عالمِ اسلام میں مظالم ڈھائے، لیکن افغانستان، عراق اور شام میں ان کے مظالم اسلام سے پہلے کے عربوں کی جاہلیت سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والے تھے۔

اگر اسلام سے قبل کے دورِ جاہلیت میں عرب لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے تو داعشیوں نے اسلام کے بعد اسلام کے نام پر آدمیوں کو زندہ جلا ڈالا اور بموں سے اڑا دیا۔

زمانہ جاہلیت میں عرب اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے چوری کیا کرتے تھے، لیکن داعشی اسلام کے سنہری دور میں اپنی روزی کمانے کے لیے عالم اسلام کی عوام کو اغوا کرتے اور تاوان کے بدلے رہا کرتے۔

زمانہ جاہلیت کے عربوں نے انسانی حقوق اور حقوقِ ملکیت کا انحصار خود پر کر رکھا تھا، داعشی بھی چاہتے ہیں کہ خلافتِ اسلامیہ کے بہانے عالم اسلام ان پر انحصار کرے۔

زمانہ جاہلیت کے عرب اپنی جنسی خواہشات کی تسکین اپنے دشمن کی عورتوں پر جنسی حملوں کے ذریعے کرتے تھے، داعشیوں نے بھی عراق اور شام میں تقریباً یہی فارمولا استعمال کیا۔

جس طرح دورِ جاہلیت میں نجی جائیدادوں کو غصب کرنا غیر اخلاقی نہیں سمجھا جاتا تھا اسی طرح داعشی بھی نہیں سمجھتے۔

اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ داعش کی وحشتوں کی ابتدا حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے عربوں سے ہوئی ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ زمانہ جاہلیت کے عربوں نے اپنے ناروا کاموں کے ذریعے کسی دین کو داغدار نہیں کیا، لیکن داعش کے وحشی اپنے تمام جرائم کو اسلامی جواز فراہم کرتے ہیں۔

داعش کے پاس نہ تو کوئی ثقافتی خوبیاں ہیں، نہ ہی کوئی اخلاقی خوبیاں، نہ عہد کا پیماں کرتے ہیں نہ ہی وفا اور نہ ہی عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ یہ تو بس موساد کے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں باقی ان میں کوئی اور کمال نہیں۔