داعش: امر اللہ صالح کے مہمان خانے سے شہری کاروائیوں تک | پہلی قسط

عمر شہید

داعش نامی خوارج گروپ نے ۲۰۱۳ء میں عراق میں اپنے وجود کا اعلان کیا، کچھ عرصے بعد اس کی سرگرمیاں مختلف ممالک میں پھیل گئیں اور افغانیوں کے ایک گروپ نے افغانستان میں بھی ان کے ساتھ بیعت کر لی۔

افغانستان میں اس گروہ کے ظہور کے بعد کچھ عرصہ تک امارت اسلامیہ افغانستان نے اس گروپ کے لوگوں اور ان کے ٹریننگ کیمپس کو کچھ نہیں کہا، لیکن کسی حد تک نظروں میں رکھا۔ اس وقت امارت اسلامیہ کے سربراہ امیر المومنین ملا اختر منصور شہید تقبلہ اللہ نے داعش کے قائدین کو ایک خط بھیجا، جس میں ان کی توجہ افغانستان کے جہادی علاقوں کے حالات اور ضروریات کی طرف مبذول کروائی اور اس حوالے سے امارت اسلامیہ کے مؤقف سے انہیں آگاہ کیا۔

داعش نے مختصر عرصے میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں اپنے لوگ بنا لیے اور ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔ جوزجان، ننگرہار، کنڑ، زابل اور افغانستان کے بعض دیگر صوبوں میں انہوں نے فسادات شروع کر دیے اور امارت اسلامیہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ امارت اسلامیہ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی کچھ توجہ ان کی طرف مبذول کر لی اور کچھ ہی عرصے میں اس فتنے کو ختم کر دیا۔

امریکیوں اور ان کے اجرتی غلاموں کے ساتھ داعش کے تعلقات

داعش کے افغانستان میں منظرِ عام پر آنے پر اس کے امریکیوں کے ساتھ تعلقات موجود تھے، انہیں ایسے لوگوں کے ذریعے تعاون حاصل ہو رہا تھا جو امریکیوں سے براہ راست رابطے میں تھے، مختلف جگہوں پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انہیں وسائل فراہم کیے گئے، اور ان کے مفاد کی خاطر امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

صوبوں سے ان کے زوال کے آخری ایام تھے۔ رفتہ رفتہ امریکیوں اور امر اللہ صالح کی سربراہی میں سابقہ انتظامیہ کے ساتھ داعش کے خفیہ تعلقات سامنے آتے گئے۔ مختلف محاذوں پر متعدد حملوں کے نتیجے میں جب ان کے آخری ٹھکانے تک تباہ ہو گئے اور امارت اسلامیہ نے ان کا محاصرہ کر لیا، تو سابقہ انتظامیہ کے ہیلی کاپٹر ان کی مدد کو پہنچ گئے اور انہیں کابل لے گئے۔ وہاں ان کا علاج معالجہ کیا گیا اور انہیں جگہیں فراہم کی گئیں۔

علمائے حق کا قتل

کابل میں داخلے کے بعد داعش کے ارکان کو امر اللہ صالح نے ارگ میں موجود سابق حکومت کے خصوصی مہمان خانوں اور اس وقت کی نیشنل سکیورٹی فورس کے خصوصی کمروں میں رکھا گیا اور مخصوص اہداف کی تکمیل کے لیے ان کی تربیت کی گئی۔

اجرتی حکومت کے آخری ایام میں انہوں نے ایسے علمائے حق کے قتل اور خاتمے کا منصوبہ تشکیل دیا جو حکومت مخالف تھے۔ یہ منصوبہ امر اللہ صالح اور اس کے ذاتی محافظ نے، جو کہ افغانستان میں داعش کا سربراہ تھا، تشکیل دیا، اور کابل میں بڑے بڑے علماء کو شہید کر دیا گیا۔

وہی داعشی جو کابل میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لائے گئے تھے، انہیں کو استعمال کرتے ہوئے علماء کو قتل کیا گیا۔

سابقہ اجرتی حکومت کے نیشنل سکیورٹی ہیڈ کوارٹر میں داعش کے جعلی منصوبے، اور جھنڈے مختلف ویڈیوز اور تصاویر میں نشر کیے گئے، جن میں دکھایا گیا کہ داعش امر اللہ صالح کی سربراہی میں افغانستان میں پیش قدمی کر رہی ہے اور اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے۔

 

جاری ہے…!