داعش عالمی طاقتوں کی آخری امید

احمد منصور

اگر ہم داعش کی تشکیل کی وجوہات پر غور کریں تو اب یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ یہ حملہ آوروں کے خلاف عالمِ اسلام میں برسر پیکار جہادی تحریکوں کو دبانے کے لیے وجود میں لائی گئی تھی۔

انہوں نے کہاں اپنے مقاصد حاصل کیے اور کہاں ناکام ہوئے؟ اس بارے میں بھی دنیا اچھی طرح آگاہ ہے۔ اسلامی نظام سے دنیا کا خوف اور پھر ان کی خواہشات کے برخلاف افغانستان میں اس کا نفاذ اور پھر بیس سال کی تربیت سے گزرے ہوئے افراد کے بے مثال فرار نے عالمی طاقتوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ایک طرف دوحہ معاہدے پر دستخط ہو گئے جبکہ دوسری طرف اب خطے میں ایسا کوئی نہیں بچا جو اس انقلابی لہر کا رخ موڑ سکے، اور یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ انہوں نے امارت کے بعض رہنماؤں کے دوروں پر اور اقتصادی اور بینکنگ کی پابندیوں کو اپنے ناجائز مطالبات کو تسلیم کروانے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن امارت نے کوئی امکان نہ ہونے کے باوجود بڑے منصوبوں پر کام شروع کر دیا اور ڈیم بنانا شروع کیے۔ اس اقدام نے نہ صرف عالمی طاقتوں کو خوفزدہ کر دیا بلکہ اس سے پڑوسی ممالک میں بھی انتشار پیدا ہوا۔

بالآخر مغربی ممالک نے پابندیوں میں اضافہ کر دیا اور خطے کے ممالک عالمی طاقتوں کے حکم پر امارت کے لیے دردِ سر بننے کا وسیلہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے داعشی منصوبے کو پھر سے تقویت دینا شروع کی، جس میں پاکستان اور تاجکستان کا اہم کردار تھا۔ پاکستان نے کوشش کی کہ پچھلی حکومتوں کی طرح امارت کو اپنے زیر اثر لے آئے، لیکن امارت کی خود مختاری نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اس شیطانی خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا۔ اب اطلاعات کے مطابق انہوں نے قبائلی علاقوں میں داعشیوں کے مراکز بھی بنائے ہیں۔

خوارج کو ختم کرنے میں امارت کی سنجیدگی اور پاکستان میں معاشی اور سیاسی مسائل نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس پیمانے پر داعش کو تربیت دینے سے گریزاں کر دیا ہے جتنی کہ اسے ضرورت محسوس ہو رہی تھی، اس لیے ایسا نظر نہیں آتا کہ پاکستان یہاں مسائل پیدا کرنے میں کامیاب ہو پائے گا۔

تاجکستان نے بھی قوشتپہ کینال منصوبے کے خلاف داعش کے ساتھ تعاون کیا اور خطے کے معروف ممالک نے بھی اس معاملے میں تاجکستان کو ورغلایا، لیکن تاجکستان اس وقت رسوا ہو گیا جب امارت کے انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ نے ڈھیروں داعشی گرفتار کر لیے، جو تاجکستان کے شہری بھی تھے اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس منصوبے کی مالی اعانت اور اس کو عمل میں لانے میں تاجکستان کا بھی کردار تھا۔

اگرچہ دنیا کے پرانے مہرے اب بھی امارت کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ آزمودہ مہرے ہیں اور امارت ان سے غافل نہیں ہے۔ داعش کچھ وقت کے لیے ان کا پراپیگنڈہ ہتھیار ضرور ہو گی، لیکن اس کے لیے طبعی ماحول فراہم کرنے میں عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ ساتھ ہی ساتھ رسوا بھی ہوں گے۔ ان شاء اللہ