داعش کی شکل میں عالمی دہشت گرد

طاہر احرار

آج کی دنیا مادیت پرست کامیابیوں کے جنون میں مبتلا ہے، ہر کوئی طاقتور اور با اختیار بننا چاہتا ہے۔

کچھ ممالک اس مقصد کے لیے صحیح راستے پر گامزن ہیں اور کچھ دیگر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لوگوں کے سروں سے راستہ بنا کر انہیں خون میں نہلا رہے ہیں۔

مغربی ممالک اپنی جنگی مصنوعات کی مارکیٹ تلاش کرنے کے لیے پہلے جنگ شروع کرتے ہیں، لاکھوں بے گناہ عورتوں، مردوں، بڑوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر ان ممالک کو ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔

مغرب جنگ شروع کرنے کے لیے مختلف ممالک میں مختلف طریقے استعمال کرتا ہے مثلاً ایشیائی ممالک میں مذہب سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ موجودہ دور میں مذہب کے نام پر مغرب کے لیے لڑنے والے بہترین کرائے کے جنگجو (mercenaries) داعشی ہیں۔

اس گروہ نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ہمیشہ امریکی مفادات کے لیے بہترین کام کیا ہے اور یہ امریکہ کے معتمد لوگ ہیں۔ عراق سے لے کر افغانستان تک اور دیگر دنیا میں بھی دیکھیں کہ کیسے مغرب ان کے ذریعے اسلامی ریاستوں کو کمزور کر رہا ہے تاکہ وہاں صلیب کی حکمرانی قائم کر سکے۔

آپ دیکھیں کے مغرب نے اپنے تمام چینلوں کو ان کے پراپیگنڈہ پر لگا رکھا ہے، جب کبھی بھی دنیا میں ان کی شہرت کم ہونے لگتی ہے اور لوگوں کے اذہان کو ان لوگوں کے ظلم اور درندگی سے آرام ملتا ہے، مغرب پھر سے بچے بچے کو داعش کے نام سے آگاہ کرنے لگتا ہے اور لوگوں کو ڈراتا ہے کہ ایک بڑا طوفان آ رہا ہے، حالانکہ اس طوفان کو کھڑا اسی نے کیا ہے اور چاہتا ہے کہ شفاف پانی کو گدلا کر کے مچھلیوں کا شکار کرے۔

چند روز قبل انٹرنیشنل سینٹر فار کاؤنٹر ٹیررازم (International Center for Counter-Terrorism) نے ایک غیر منصفانہ رپورٹ نشر کی کہ داعش خراسان گروپ افغانستان میں پھر سے زندہ ہو رہا ہے۔

اگر ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ داعش خراسان گروپ افغانستان میں اس طرح نیست و نابود ہو چکا ہے کہ اگر داعش کے تمام گروپ بھی متحد ہو جائیں تب بھی وہ کوئی قابل ذکر فتح حاصل نہیں کر سکتے، اور ان کی یہ شکست افغان اور ساری دنیا محسوس کر سکتی ہے۔

مذکورہ سینٹر نے ثبوت کے طور پر لکھا کہ افغانستان میں داعش کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ داعش کے کوئی حملے نہیں ہوئے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ داعش کے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی جیسے ہی کرتے ہیں، بہادر افواج انہیں فوری بے اثر کر دیتی ہیں، کبھی کوئی حملہ ہو بھی جائے تو منصوبہ سازوں کو فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے تاکہ وہ دوسرے حملے کی منصوبہ بندی نہ کر سکیں، ایسے حملے دنیا میں ایک عام سی بات ہیں، یہاں تک کہ بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

ایک اور جگہ لکھا کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ دے رکھی ہے اور وہ یہاں سرگرم ہیں، جیسے تحریک اسلامی ازبکستان، چین کے اویغور، یا دیگر تنظیمیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان نے بارہا اس بات کی وضاحت کی ہے کہ افغانستان میں کوئی غیر ملکی جنگجو موجود نہیں ہے، اب تک نہ تو خود ان ممالک نے اور نہ ہی عالمی برادری نے ان جنگجوؤں کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے شواہد فراہم کیے ہیں۔ افغانستان کی پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ طویل سرحد موجود ہے، بعض زیرو پوائنٹس کے حوالے سے ممکن ہے کہ کبھی کبھی تحریک طالبان پاکستان ان سے استفادہ کر لیتہ ہو، لیکن ان زیرو پوائنٹس کا کنٹرول دونوں ملکوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ایک اور جگہ لکھا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے پاس دہشت گردی سے لڑنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ افغانستان کے تمام انسانی وسائل یا باشندے بلا امتیاز نہ تو داعش سے کوئی وابستگی رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں میں کوئی تعاون کرتے ہیں، اس کے لیے ان کے خلاف زیادہ افواج کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، جبکہ اسلحہ کے اعتبار سے امارت اسلامیہ افغانستان کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ داعش یا دیگر شر پسند گروہوں کو روک سکے۔ ہمارے پاس نیٹو کی بچی ہوئی اتنی گاڑیاں اور وسائل ہیں جو ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے کافی ہیں، اس طرح دیگر بہت سے وسائل، ہیلی کاپٹر اور طیاروں کی مرمت ہو چکی ہے اور وہ ملکی دفاع کے لیے تیار ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان ایسے مقام پر نہیں کھڑی کہ اس کے بارے میں کوئی اور فیصلہ کر سکے، ہمارا ملک امن کا گہوارہ ہے اور تعمیر نو کے کام بھرپور انداز سے جاری ہیں۔