داعش کے خلاف جنگ کی روداد | دوسری قسط

معاذ بدر

داعش کے خلاف جنگ کی روداد | دوسری قسط

داعشی ’خلافت‘ کے زیرِ سایہ علاقے

جلال آباد کے علاقے عوام سے تقریباً خالی ہو چکے تھے؛  لوگ داعش کے ڈر سےجلال آباد شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔  میں نے ایک مقامی شخص سے پوچھا: ’داعش تو ابھی شیر زاد کی چوٹیوں پر ہے، نیچے اتری ہی نہیں ہے،  ادھر سے لوگ کیوں بھاگ گئے‘ ؟ وہ کہنے لگا: ’قاری صاحب! میں آپ کو کیا بتاؤں کہ ہم کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ آٹھ (۸) ماہ ہونے والے ہیں، میرے  گھر والے جلال آباد شہر میں پڑے ہیں،  گھر کا سامان ادھر ہے اور میں اس کی حفاظت کر رہا ہوں۔  شہر میں رہنے کے لیے  کرایہ بھی نہیں ہے۔ دعاکرو یہ فتنہ ختم ہو جائے  ‘۔

ایک اور بوڑھا اپنی پرانی بندوق طالبان کے پاس لے کر آیا اور کہنے لگا: ’یہ بندوق لے لو، جب جنگ کے لیے  جاؤ تو اس کو استعمال کرلینا  تاکہ اس فتنے کو مٹانے کے اجر میں میں بھی شریک ہو جاؤں‘۔ ایسے  واقعات کئی ہیں ، لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے میں ان کا ذکر نہیں کر رہا۔

الفتح عملیات سے پہلے ننگر ھار کے مقامی طالبان اس فتنے سے نبرد آزما تھے۔  شیخ امیر محمد عالم حقانی کی سربراہی میں طالبان نے داعش کے خلاف کئی حملے کیےاور داعش کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔  مگر ایک مقامی مجاہد کے بقول: ’جب ہم ان سے جنگ کرتے تو افغان ملی فوج داعش سے چھینے گئے علاقوں میں بکتر بند گاڑیاں لے کر آجاتی اور فضا سے امریکی ڈرون طیارے ہمیں نشانہ بناتے۔ بعض دفعہ کھلے آسمان کے نیچے کئی زخمی اور شہدا پڑے ہوتے اور ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ صرف امیر محمد عالم حقانی صاحب کے مجموعے کےباون (۵۲)کے قریب ساتھی شہید ہوئے  ‘۔

جنگ سے پہلے داعشیوں سے ہر روز مخابرے پر بات چیت ہوتی۔  طالبان ان کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کرتے۔ ایک دن طالبان کے جنگی مسئول نےداعشیوں سے مخابرے پر بات چیت کرتے ہوئے  کہا: ’تم تسلیم ہو جاؤ، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے، یہ سب کچھ تمہارا ہوگا، ہم واپس چلے جائیں گے‘۔ انھوں نے مزید کہا:  ’میں اس چیز کی گارنٹی دیتا ہوں کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔ اللہ کی قسم دشمن کو ہمارے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دو کہ جہاد کے نام لیوا لڑ رہے ہیں۔ تمہیں اجازت ہوگی تم جہاں کہیں بھی جہاد کرو ‘۔ مگر وہ آگے سے کہنے لگا : ’تم مشرک ہو، امارت آئی ایس آئی ہے، تمہارا آئی ایس آئی سے معاہدہ ہے ‘۔ اس جواب میں ایک تو حد درجہ غلو و گمراہی ہے کہ مجاہدین کو یہ جہلا ’مشرک‘ کہتے ہیں، دوسرا اس میں الزام ہے۔ یہ وہی  الزام ہے جو اشرف غنی اور افغان ملی فوج امارت کے مجاہدین پر لگاتی ہے اور اس الزام کا جواب امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے مسئول جناب شیر محمد عباس ستانکزئی صاحب بہت عمدگی سے دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں ’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان عملاً نیٹو کے ساتھ اس اتحاد میں شامل ہے (جو افغانستان پر حملہ آور ہے)۔ امریکہ کی  ساری رسد پاکستان کے راستے سے آتی ہے،لہٰذا پاکستان کیسے ہمارا(طالبان کا)  مددگار ہو سکتا ہے؟ ‘۔

داعشیوں سے تقریباً  ہر روز جنگ ہوتی تھی،  ہمارے پہنچنے سے پہلے بھی کافی جنگیں ہو چکی تھیں جس میں ایک طالب ’مامک‘ شہید ہوا تھا۔  مامک کے والد بھی مجاہد تھے اور امریکیوں سے لڑتے ہوئے  شہید ہوئے تھے۔  مامک جس پہاڑ پر شہید ہوا، اس کی چوٹی پر اس وقت داعشیوں کا قبضہ تھا۔  مامک جونہی شہید ہوا، اس کے ساتھیوں نے اس سے بندوق لینا چاہی لیکن مامک نے بندوق مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی اور وہ اسے چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔ طالبان نے بندوق لینے کے لیے  اپنا پورا زور لگا یا لیکن بندوق مامک کے ہاتھوں میں ہی رہی۔  اتنے میں ایک طالب آگے بڑ ھا اور اس نے مامک سے کہا: مامک! اللہ تمہاری شہادت قبول فرمائے  ، بندوق واپس کر دو۔ اس بات کے بعد مامک کی گرفت بندوق پر ڈھیلی پڑ گئی۔

ہمارے پہنچنے کے تیسرے روز جنگی مسئول نے ایک تعارض (دھاوا)ترتیب دیا جس میں ہمارے دو ساتھیوں کو بھی شامل کیا گیا،  جس میں ایک نائٹ وژن (رات والی دور بین )کا ماہر بھی شامل تھا۔ رات کے تعارض میں نائٹ وژن کا ماہر بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے  اور عمومًا جنگ کا دارو مدار اسی  پر ہوتا ہے۔  داعشی، مقامی لوگوں کے گھروں میں رہ رہے تھے۔ مقامی لوگ تو داعشیوں کے آتے ہی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ داعشیوں نے اپنے جنگجوؤں کو گھروں میں بکھیرا ہوا تھا اور گھروں کے باہر بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی تھیں۔

رات کو ساتھی جنگ کے لیے  گئے۔  جونہی ان کے علاقے میں پہنچے تو حملہ شروع ہو گیا۔  طالبان نےزور دار حملہ کیا لیکن پیش قدمی میں مشکلات پیش آرہی تھیں  کیونکہ بارودی سرنگوں پر ساتھیوں کے چڑھنے  اور ان کے پھٹنے کا خطرہ تھا۔  پوری رات جنگ جاری رہی۔  داعشی، طالبان کو اپنے مورچوں کے قریب بالکل نہیں آنے دیتے تھے۔  دستی بم  ؍ گرنیڈ کافی تعداد میں ان کے پاس موجود تھے  اور وقفے وقفے سے وہ گرنیڈ پھینکتے تھے۔  لیکن طالبان نے بھی پیچھے نہ ہٹنے کی ٹھانی ہوئی تھی ۔

 

جاری ہے…!