داعش کے خلاف جنگ کی روداد | پہلی قسط

معاذ بدر

داعش کے خلاف جنگ کی روداد

عصر حاضر کى جہادی تاریخ میں ہمیں جہاد کے میدان میں ایک ایسا گروہ دیکھنے کو ملا جس نے جہادی تاریخ کو اپنے سیاہ اعمال سے داغ دار کیا۔ اس نے جہادی صفوں کی وحدت کو توڑا، علما اور مجاہدین اور دیگرعام مسلمانوں کی تکفیر کی اور ان کو چن چن کر شہید کیا۔ جہاں اس نے دیگر جہادی محاذوں، بالخصوص عراق، شام، یمن اور صومالیہ میں مجاہدین کی وحدت کو تو ڑا اور ان کی قیادت کو شہید کیا، وہیں پر مجاہدینِ امارتِ اسلامیہ کو افغانستان میں بھی اس تکفیری ٹولے کاسامنا کرنا پڑا۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی تائیدوحمایت سے محروم یہ طبقہ ہر محاذ اور ہر مقام پرمجاہدین ہی سے لڑتا رہا اور بالآخر اپنے اعمالِ بد کے نتیجے میں شکست کھا گیا اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کی مبارک سرزمین سے اس گروہ کا خاتمہ ہو گیا، الحمدللہ۔ دنیا اس گروہ کو داعش کے نام سے جانتی ہے۔ الحمدللہ افغانستان میں جہاں مہاجر مجاہدین نے صلیبی صہیونی یلغار کا مقابلہ اپنے طالبان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کیا، اسی طرح داعش کے خلاف امارت اسلامیہ افغانستان کی تقویت و مضبوطی کے لیے بھی مہاجرین اپنے افغان بھائیوں کی نصرت سے ہرگز پیچھےنہیں رہے۔ داعش کا فتنہ اٹھتے ہی مہاجر مجاہدین نے ننگر ہار میں مہاجر مجاہدین کے ایک مسئول قاری ایوبی شہید کی قیادت میں امارت کے دستوں (قطعوں) کے ساتھ مل کر داعش پر کئی کامیاب حملے کیے (ان مجاہدین میں قاری شاہین شہید، حیدر شہید، سیف اللہ شہید اور عبداللہ شنواری قابلِ ذکر ہیں )۔

داعشی علاقوں کی طرف روانگی

الفتح عملیات کا اعلان ہوتے ہی طالبان کے دستے (قطعے)ننگر ہار کا رخ کرنے لگے کیونکہ داعشی عناصر زابل میں شکست کھانے کے بعد ننگر ہار میں جمع ہو چکے تھے اور امارتِ اسلامیہ کے لیے سخت مشکلات پیدا کر رہے تھے۔ ننگر ہار کے مقامی طالبان اس فتنے سے پہلے ہی نبردآزما تھے۔  امارت کے مسئولین نےاس جنگ کے لیے  مہاجر مجاہدین کےذمہ داران سے بھی کچھ ساتھیوں کا مطالبہ کیا، جس میں بارود کے ماہرین اور رات کو دیکھنے والی دوربین(night vision) استعمال کرنے والے ماہرین  شامل تھے۔ تشکیل روانہ ہونے کے کچھ دن بعد ہم ننگر ہار کی شیرزاد اولسوالی (ضلع شیر زاد) میں پہنچ گئے جہاں پر پہلے پہنچنے والے طالبان  مجاہدین نے اپنے مراکز بنائے ہوئے  تھے ، جبکہ سامنے والی پہاڑی چوٹی ’واٹ سر‘ پر داعشیوں کاقبضہ تھا۔

ان جنگوں  میں ہم نے تین ماہ کے قریب عرصہ گزارا اور سال ۲۰۱۹ء کے  ماہِ اگست، ستمبر و اکتوبر داعشیوں کے خلاف جنگی محاذ پر گزرے۔ یہاں درج کردہ روداد انہی مہینوں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے۔

داعشی ’خلافت‘ کا نقشہ

مجھے ننگر ہار پہنچنے کے بعد بہت حیرت ہوئی کہ  مقامی عوام داعشیوں سےڈرے ہوئے  تھے۔  ہر کوئی اس پریشانی میں تھا کہیں داعشی ادھر ہمارے علاقے میں نہ آجائیں۔  مجھے بہت حیرت ہوئی کہ داعش کی یہ کیسی خلافت ہے جس سے ڈر کر لوگ بھاگ گئے؟  یہ کیسانظامِ ’شریعت‘ کا دعویٰ  ہے جو گواہوں  کی گواہی و شہادت کی بجائے  شبہے کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرتا ہے؟ کیسے بد نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی پاکیزہ شریعت کو بدنام کیا ۔

جاری ہے…!