برطانیہ شام سے داعش کی ایک خاتون اور پانچ بچوں کو اپنے ملک لے گیا۔

شمالی شام کے ایک کیمپ میں داعشی خواتین شمالی شام کے ایک کیمپ میں داعشی خواتین

عرب اور برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت گزشتہ شب شمالی شام کے روج کیمپ سے ایک برطانوی خاتوں اور پانچ بچوں کو کردوں کے ہاتھوں وصول کر کے انہیں اپنے ملک لے گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ چھ افراد کا خاندان حسکہ گورنوریٹ میں روج کیمپ میں مقیم تھا اور کردی فورسز اور برطانوی حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے تحت انہیں برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔

روج کیمپ الہول کے بعد شمالی شام کا دوسرا کیمپ ہے جہاں داعش کی ہزاروں خواتین اور بچوں کو رکھا گیا ہے۔

شمالی شام میں یہ دونوں کیمپ شام اور عراق میں داعش کی شکست کے بعد داعشیوں کی عورتوں اور بچوں سے بھر گئے۔ ان کیمپوں میں داعش کے غیر ملکی ارکان اور ان کے خاندانوں کی منتقلی ایسے حال میں جاری ہے کہ داعش کی قیادت اپنے قیدیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر چکی ہے اور صرف خالی زبانی تنبیہات پر اکتفاء کر رہی ہے۔

شامی کیمپوں میں رہائشی صورتحال بہت خراب ہے اور وہاں کے قیدیوں نے بار ہا خوارج کی قیادت سے توجہ اور رہائی کی درخواست کی ہے۔

کچھ عرصہ قبل شام کے جیلوں میں داعش کے قیدیوں کی طرف سے اس وقت کے خود ساختہ خلیفہ کو خط لکھا گیا اور اس میں شدید شرم اور غیرت دلائی گئی۔ تحریر میں نام نہاد و گمنام خلیفہ سے کہا گیا کہ وہ داعشی قیدیوں کی صورتحال پر توجہ دے ورنہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب طلبی کے لیے تیار رہے۔