باطل نظریات کی پہچان اہم کیوں؟

محمود محفوظ

ایک شاعر کہتا ہے: ستارے سختیوں سے گزر کر سحر تک پہنچتے ہیں۔

رات کی پہچان ہو گی تو دن کی قدر کا اندازہ ہو گا، سیاہ و سفید کا فرق معلوم ہو گا، یہ معلوم ہو گا کہ دنیا میں تضاد کا قانون موجود ہے، سیاہ و سفید، رات و دن، جہالت و علم، بدصورتی و خوبصورتی، زندگی و موت۔ یہ پہچان کا قانون بھی ہے۔ سفید کی پہچان سیاہ کے وجود سے ہے، علم کی پہچان جہالت کے وجود سے ہے، روشنی کی پہچان اندھیرے کے وجود سے ہے، حق و باطل کا معاملہ بھی اسی طرح سے ہے۔

زمین پر سب سے پہلے انسان آدم علیہ السلام کو رات میں زمین پر اتارا گیا، چونکہ آدم علیہ السلام نے رات نہیں دیکھی تھی، اس لیے یہ ان کے لیے اجنبی اور خوفناک چیز تھی، وہ اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے، آخر کار یہ گمان کیا کہ شاید یہاں روشنی کا وجود ہی نہیں ہے، بہت غمگین اور پریشان ہوئے، کچھ دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ مشرق کی جانب سے ہلکی ہلکی روشنی نمودار ہو رہی ہے، سپیدۂ سحر پھوٹ رہا ہے، روشنی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے، اور سب کچھ اب آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اٹھے اور دو رکعت نماز ادا کی، ایک رکعت رات (اندھیرے) سے چھٹکارا پانے جبکہ دوسری رکعت روشنی کے نمودار ہونے کے شکرانے کے طور پر ادا کی۔ آدم علیہ السلام کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر ہر صبح یہ دو رکعتیں فرض عین کر دی گئیں۔

اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان بھی ہے۔ اگر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو یقیناً ان کی پہچان نامکمل ہوگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی پہچان تب درست ہو سکتی ہے جب ساتھ میں ابو جہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ وغیرہ جیسے دشمنوں کا بھی مطالعہ کیا جائے، آپ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہے کوئی بھی کتاب کھول کر دیکھ لیں، سب سے پہلے جاہلیت کے تاریک زمانے کا ذکر ہو گا، کیونکہ پھر ہی روشن محمدی دور کی درست پہچان ہوگی، اسی طرح اسلام میں پہلے کلمے میں سب سے پہلے ’لا‘ کا لفظ‘ ہے، یہ باطل اور باطل کی تمام اقسام کا رد ہے، اس لیے کہ پہلے باطل کی پہچان ہو گی، اس کا رد ہو گا تب ہی حق تک پہنچا جائے گا۔

یہ باطل نظریات ہی ہیں جنہوں نے اسلامی اقدار کو تباہ کیا، اسلام کی تمام بنیادوں کو اکھاڑ دیا، امت مسلمہ کے اتحاد میں دراڑیں ڈالیں، اسلامی خلافت کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کو اپنے اسلام کے بارے میں شک میں مبتلا کر دیا۔ اگر باطل نظریات، افکار اور عقائد کی بروقت پہچان ہو جاتی، بروقت ان کا مقابلہ کیا گیا ہوتا، اور اسلامی نظریات و افکار کو معاشرے کے سامنے پیش کیا گیا ہوتا، تو اسلام زندگی کے ساتھ متوازی چلتا۔ اگر اسلام زندگی اور اس کی ترقی اور تقاضوں کے ساتھ متوازی حرکت کرتا تو اسلام کی یہ کشتی کبھی بھی اس طرح شکستہ، ٹکڑے ٹکڑے اور تباہ حال نہ ہوتی۔ اسلامی معاشرہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق چل رہا ہوتا۔ ضروری نہیں کہ ہم زمانۂ جاہلیت کے کفریہ اور باطل نظریات کی بات کریں، بلکہ آئیں اپنے وقت کے کفر، اس کی اقسام اور اس کی موجودہ شکلوں کی معاشرے کو پہچان کروائیں اور اسلامی فکر کی تلوار سے ان کا مقابلہ کریں، ہمارے علماء کی غفلت آنے والی نسلوں کے لیے کام مشکل بنا رہی ہے۔ اگر ہم اپنے ذاتی جزیروں سے باہر نکلیں اور اسلامی وطن تشکیل دینا چاہیں تو عنقریب آدھی دنیا کو ایک بار پھر ہم پندرہ سو سال کے لیے مایوس بٹھا دیں۔