بات پاکستانی حکمرانوں کے بس سے باہر ہو چکی

حالات حاضرہ پر تبصرہ | زبیر عاطف

پاکستان کے نگران وزیر اعظم نے اپنے ملک میں خونریز حملوں کے بعد حسب توقع ایک بار پھر سارا ملبہ افغانستان کے سر ڈال دیا ہے اور اس طرح خود کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے پاکستانی حکام کا یہ معمول بن گیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی نا اہلی اور غلط پالیسیوں کے منفی نتائج کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہراتے ہیں۔

موجودہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی حیثیت حقیقت میں پاکستانی فوج کے ہاتھ میں ایک مہرے کے جیسی ہے۔ اسے فوج کا مہرہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک انتہائی پیچیدہ سیاسی بحران کے دوران خلافِ توقع آسانی سے وزارت عظمیٰ تک پہنچ گیا۔ کاکڑ اب افغانستان اور افغانوں کے حوالے سے جو باتیں کر رہا ہے یہ اس کا کام ہے۔ اس کے ساتھ فوج کا تعاون بھی اس کی پس پردہ رہنمائی اور اس کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول کے لیے ہے۔

کاکڑ نے اسلامی اقدار، ہمسائیگی، اور بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندتے ہوئے سب سے پہلے ان افغانوں کو اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا کہ جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں ہجرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ اب اس نے ان پر یہ الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے عدم استحکام میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔ انوار الحق کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اسے ہر قیمت پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کی جانے والی اصولوں کی تمام خلاف ورزیوں کا جواز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ افغان جو پاکستان میں رہے یا اب بھی رہ رہے ہیں، انہوں نے سوویت فوجوں، مفسد عناصر، اور امریکی جارحیت پسندوں کے مظالم کی وجہ سے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ اگر بالفرض کسی افغان نے پاکستان کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی بھی ہو تو بھی یہ لازمی طور پر پاکستان کی کاروائیوں کا ردّعمل ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ لاکھوں افغان مہاجرین میں سے چند ایک کو پاکستانی حکومت کے ناروا سلوک، وحشیانہ قید و بند اور ظلم و ستم نے دسیوں ہزار پاکستانیوں کی طرح اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر لڑائی شروع کرنے پر مجبور کر دیا ہو۔

دیگر غیر ذمہ دارانہ بیانات کے علاوہ، کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے افغانستان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا ہے، لیکن افغانستان (ان کی اصطلاح میں) ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کاروائی نہیں کرتا۔ یہاں ہم دیگر موضوعات سے آگے بڑھتے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ’دہشت گردی‘ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ذیل میں ہم قارئین پر واضح کریں گے کہ پاکستان نے خود افغانستان کی طرف سے مجرمانہ حملوں کے حوالے سے فراہم کردہ قابل اعتماد معلومات کو کتنی سجنیدگی سے لیا ہے۔

چند ماہ قبل افغانستان نے پاکستان کو معلومات دی تھیں کہ داعشی خوارج دینی علماء اور تقریبات پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور خان نامی ایک شخص اس کام کی قیادت اور منصوبہ بندی کا ذمہ دار ہے۔ خان خراسانی خوارج کا خیبر پختونخواہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک سرکردہ عہدے دار ہے اور خراسانی خوارج میں ڈاکٹر افضل کے نام سے مشہور ہے۔ پاکستانی فریق نے خان کو افغانستان سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا اور مختصر مدت گرفتار رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ ڈاکٹر افضل نے رہا ہونے کے بعد پھر سے اپنا کام شروع کر دیا اور اس کے حملوں میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ المرصاد کو حال ہی میں سکیورٹی ذرائع سے خان (ڈاکٹر افضل) کی تصویر ملی ہے اور اسے آج نشر کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر افضل خان
ڈاکٹر افضل خان

کاکڑ (اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ) کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے داخلی مسائل اپنے پڑوسیوں پر الزام لگانے اور بیگناہ اور بے بس لوگوں پر قوت استعمال کرنے سے حل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان اس وقت تک مشکلات کا شکار رہے گا جب تک کہ اس کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی بجائے اپنی دیرینہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دیتی۔