بین الاقوامی معاہدات کی پابندی

قلب الاسد افغانی

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کفار کی طاقت افغانستان میں صفر ہو گئی اور اسلامی فوج نے ان قوتوں کو شکست دے دی، لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے لیے موم کی ناک بنانے کی خاطر مذاکرات کیے اور یہ بہانہ گھڑا کہ وہ اصل میں بھاگ نہیں رہے بلکہ امن کی خاطر جا رہے ہیں۔

مذاکرات میں مختلف باہمی معاہدے ہوئے اور بہت کم وقت میں ان قوتوں نے اپنی فوجوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا۔

امارت اسلامیہ اپنے معاہدے پر قائم رہی لیکن عالمی برادری بالخصوص امریکہ اپنے معاہدوں اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں لاپرواہ نظر آتا ہے۔

آج کل امارت اسلامیہ کے مخالفین بیرونی ممالک میں امارت اسلامیہ کے خلاف اجلاس کر رہے ہیں اور عالمی برادری بھی انہیں جگہ فراہم کرنے کے لیے ہاتھ بڑھا رہی ہے۔

لیکن ہم عالمی برادری سے پوچھتے ہیں کہ اگر واقعی میں امارت اسلامیہ دہشت گرد ہے، پھر ان دہشت گردوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا اور جنگ سے کام کیوں نہیں لیا؟

دوسری بات یہ کہ اگر امارت اسلامیہ واقعی میں دہشت گرد ہے تو پھر کھلم کھلا یہ اعلان کیوں کیا کہ ہم افغانستان سے اس لیے نکل رہے ہیں کہ وہاں دیگر دہشت گرد گروہ ختم ہو چکے ہیں؟

لہذا نہ تو امارت اسلامیہ دہشت گرد ہے، نہ ہی مافیا گروپوں کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور نہ ہی آپ کے ساتھ کیے گئے وعدوں میں کوئی کمی کی ہے، پھر کیوں آپ اپنے ملکوں میں اس نظام اور حکومت کے خلاف گروہوں کو اجازت دیتے ہیں اور خود بھی پوری ڈھٹائی سے ان کا ساتھ دے رہے ہیں؟

واضح رہے! اگر ان گروہوں کو اپنی ان کارستانیوں سے روکا نہیں گیا تو پھر معاہدوں کو توڑنے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہو گی۔