بدنامِ زمانہ صیہونی ادارے ’’موساد‘‘ کا تعارف

رحمت اللہ فیضان

قیادت کا فقدان، قوم کی فنا، یہ نعرہ تو خوبصورت ہے لیکن یہ اسرائیل کی سفاک اور بدنام زمانہ تنظیم موساد کا شعار ہے۔

موساد کے نام سے انٹیلی جنس اور آپریشنز کا خصوصی ادارہ جو انٹیلی جنس سرگرمیوں اور اس کے ساتھ ساتھ خفیہ اور انسدادِ جاسوسی (کاؤنٹر انٹیلی جنس) کاروائیوں کا ذمہ دار ہے، ۱۳ دسمبر ۱۹۴۶ کو قائم ہوا۔

یہ سفاک اور ظالم انٹیلی جنس ادارہ جلد ہی برطانیہ اور امریکہ کے انٹیلی جنس تعاون سے اسرائیل کے لیے انتہائی کارآمد انٹیلی جنس ادارہ بن گیا۔

یہاں ایک نکتہ اہم ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ موساد اسرائیلی انٹیلی جنس کی مجموعی شکل ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ موساد اسرائیلی انٹیلی جنس جسے ’’شائی‘‘ کہا جاتا ہے اس کا ایک حصہ ہے۔

موساد یا یہودیوں کی زیر زمین تنظیم، پانچ عبرانی الفاظ کا مخفف ہے جس کا مطلب ہے ’’انٹیلی جنس اینڈ اسپیشل آپریشنز‘‘۔

موساد دراصل صیہونی حکومت کی خفیہ پولیس کی ایک جدید شکل ہے اور مختلف خفیہ اور بکھری ہوئی تنظیموں کا ایک مجموعہ ہے جو کئی دہائیوں سے یہودی مفادات کی خاطر اور اس کے مخالفین کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

جیسا کہ ہم نے کہا کہ موساد کی کاروائیوں کا میدان اسرائیل سے باہر ہے اور یہ دیگر ممالک میں اپنے مخالفین کی معلومات اکٹھی کرتی ہے اور انہیں نشانہ بناتی ہے۔ آئیے اس حوالے سے چند مشہور مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں:

موساد کے ایجنٹس نے ۱۹۶۱ء میں ایک مشہور نازی افسر اور یہودیوں کے سب سے بڑے قاتل ایڈولف ایخمان کو، جو ارجنٹائن میں خفیہ طور پر رہ رہا تھا، ڈھونڈ نکالا، اسے اغوا کر کے اسرائیل منتقل کیا اور وہاں اسے پھانسی دے دی گئی۔ اس آپریشن کی وجہ سے دنیا بھر میں اس تنظیم کے موثر ہونے کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی۔

موساد نے بہت سے فلسطینی رہنماؤں اور مزاحمت کاروں کو قتل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر میونخ اولمپکس میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے قاتلوں کو ختم کرنے میں۔

اسی طرح یہ تنظیم دبئی میں حماس کے رہنما محمود المبحوح کے قتل اور خلیل الوزیر کے قتل، جو ابو جہاد کے نام سے مشہور تھے، میں براہ راست ملوث تھی۔

محمود عبد الرؤف المبحوح حماس کے سینئر کمانڈرز میں سے ایک تھے جنہوں نے عزالدین القسام بریگیڈ کی بنیاد رکھی۔  ۱۹ جنوری ۲۰۱۰ء کو دبئی کے روتانا ہوٹل میں موساد کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

صیہونی حکومت کے چینل ۱۲ نے ایک دستاویزی فلم نشر کر کے غزہ کی مزاحمتی تحریک کے اس کمانڈر کے قتل کی تفصیلات کا انکشاف کیا اور اس کاروائی میں موساد کی ذمہ داری کا بھی انکشاف کیا۔ اس فلم میں کہا گیا کہ المبحوح کے قتل میں ۲۲ منٹ لگے۔ المبحوح کو ایک کیمیکل کا انجیکشن لگا کر ان کے عضلات کو مفلوج کر دیا گیا، پھر ان کا نظام تنفس کام کرنا چھوڑ گیا، جو ان کی فوری موت کا سبب بنا۔

خلیل ابراہیم الوزیر، جو ابوجہاد کے نام سے مشہور تھے، ایک فلسطینی سیاست دان اور عسکری مزاحمت کار تھے۔ ان کا شمار الفتح تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا ہے، اس کے ساتھ وہ اس تنظیم کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور الفتح کے عسکری ونگ ’الصفہ‘ کے کمانڈر بھی تھے۔ انہیں موساد نے ۱۹۸۸ء میں تیونس میں قتل کر دیا تھا۔

اسی طرح موساد نے ایک کینیڈین انجینئر اور سائنسدان جیرالڈ بول کو بلجیئم میں قتل کیا، جسے صدام حسین نے بابل پراجیکٹ میں ایٹم بم بنانے کے لیے ملازم رکھا تھا۔

چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران اس تنظیم نے عرب فوجوں کی تمام اہم معلومات حاصل کر لیں اور اس کی وجہ سے اسرائیل کو مذکورہ جنگ میں نمایاں برتری حاصل ہوئی۔

بعد کے برسوں میں موساد کو کچھ ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، ان میں سے ایک اہم ناکامی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے میں نااہلی اور لبنان کی حزب اللہ سے نمٹنے میں ناکامی ہے۔

تل ابیب اسلامی یونیورسٹی، اسلامی دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

یہ یونیورسٹی تل ابیب میں واقع ہے اور ان جگہوں میں شامل ہے جہاں موساد اسلامی علوم کے اسکالرز کے عنوان سے جاسوسوں کو تربیت دیتی ہے اور انہیں مختلف اسلامی ممالک میں کاروائیوں، جاسوسی، مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے، مسلمانوں میں دھڑے بندی کرنے اور اسلامی ممالک میں تشدد پھیلانے کے لیے بھیجتی ہے۔

یہ یونیورسٹی ۱۹۵۶ء میں قائم ہوئی تھی اور ۶۷ سال سے اس یونیورسٹی میں اسلامی علوم جیسے تفسیر، حدیث، فقہ، اسلامی تاریخ، عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔

اس یونیورسٹی میں یہودیوں کے علاوہ کسی دوسرے طالب علم کو داخلے کی اجازت نہیں ہے، اور موساد کی طرف سے اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ طلباء اور اساتذہ کے لیے تدریسی مواد اور نصاب کا انتخاب موساد کی طرف سے ایک دقیق منصوبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو انٹیلی جنس کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

جب کوئی طالب علم اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتا ہے تو اس کے لیے ایک اسلامی نام کا انتخاب کیا جاتا ہے اور پھر اس کا تعارف ایک بڑے عالم دین کے طور پر کروایا جاتا ہے اور اسلامی دنیا میں مسلمانوں کے درمیان ایک عالمِ دین اور شیخ کے نام سے انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کے مواقع اور عہدہ تفویض کیا جاتا ہے۔

جب وہ اسلامی دنیا میں مسلمانوں کے درمیان اپنا کام شروع کرتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ تعلقات قائم کر لیتا ہے تو انتہائی احتیاط سے مسلمانوں کے بارے میں معلومات موساد کو فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے اور موساد کی طرف سے بنائے گئے فتاویٰ مسلمانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ موساد کے تربیت یافتہ یہ شیوخ مسلمانوں میں دھڑے بندیاں بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ان دھڑوں کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کے بیج بو کر انہیں آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

موساد میں انٹیلی جنس مقاصد کے لیے نوجوان لڑکیوں کی بھرتی

موساد سابق روسی جمہوریتوں، مشرقی یورپی ممالک اور اسلامی ممالک میں نوجوان لڑکیوں کی بھرتی کے لیے اس طرح کے اشتہارات شائع کرتی ہے کہ ہوٹل کے عملے، ناچ گانے کی کمپنیوں اور تجارتی کمپنیوں کے لیے ماڈل لڑکیوں کو اعلیٰ تنخواہوں پر رکھا جا رہا ہے۔ یہ لڑکیاں جو خوبصورت اور عمر میں بیس سال سے کم ہوتی ہیں، سب کو پھر اسرائیل بھیج دیا جاتا ہے، انہیں عربی سکھائی جاتی ہے، خفیہ ویڈیوز اور آوازیں ریکارڈ کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھر جاسوسی کے مقاصد کے لیے دیگر ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے۔

دیگر انٹیلی جنس اداروں کی نسبت موساد انٹیلی جنس خدمات کے لیے لڑکیوں کا استعمال زیادہ کرتی ہے، اسی وجہ سے اسرائیل دنیا میں انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی پھیلانے میں پہلے نمبر پر ہے۔