عظیم یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ | پہلی قسط

طاہر احرار

فلسطین:

اس کی زمین پر قبضہ ہو گیا، انہیں اپنے ہی گھروں سے بے گھر کر دیا گیا، ان کی ذاتی جائیدادیں ان سے زبردستی چھین لی گئیں، تجارتی کارخانے اور کاروبار ہتھیا لیے گئے، قبلۂ اوّل پر قبضہ کر لیا گیا، بیت المقدس میں نماز پر پابندی لگا دی گئی، بازاروں میں ان کا مذاق اڑایا گیا، حتیٰ کہ  راستوں میں ان پر تھوکا گیا، ان کو قتل کرنا بہت آسان تھا، بہت معمولی بات پر ان پر گولی چلا دی جاتی اور شہید کر دیا جاتا، عورتیں تھیں تو بھرے بازار میں ان پر دست درازی اور ان کی توہین کی جاتی، نوجوانوں کی ساری جوانی قید خانوں کی نظر ہو جاتی، اور درجنوں لاپتہ ہو جاتے۔

بالآخر فلسطینی مجبور ہو گئے کہ خود کو آگ میں ڈال دیں اور انہوں نے طوفان الاقصیٰ نامی آپریشن کا آغاز کر دیا!

چند جانثاروں نے اسرائیلیوں پر فدائی آپریشنز کیے، تاکہ ان سے اپنا بدلہ لے سکیں۔ اسرائیل نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین کے نہتے عوام پر فضائی بمباری شروع کر دی، ایسی بے رحمانہ بمباری کی گئی کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

۹۰ فیصد غزہ تباہ کر دیا گیا، وہاں کے مکینوں کے گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، گھروں میں موجود عورتوں بچوں کو جلا ڈالا اور ملبے تلے دبا دیا گیا۔ لوگوں کا کل سرمایہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا، وہاں مسجدیں تباہ ہوئیں، اور بمباری سے پناہ کے لیے وہاں آنے والے لوگ ان میں شہید ہو گئے۔

اسکولوں پر سفید فاسفورس سے بمباری کی گئی، تمام طلباء اور پناہ گزین ان میں شہید ہوئے، لوگوں کے علاج اور مرہم پٹی کے لیے ہسپتال بھی ان کی بمباریوں سے محفوظ نہیں رہے، وہ بھی ویران و برباد ہو گئے، بچوں کے ہسپتال جو سینکڑوں بچوں کی دیکھ بھال کی جگہ تھے ان پر بے رحمی سے بمباری کی گئی، ان میں موجود تمام بچے شہید ہو گئے۔

زندہ بچ جانے والے بچوں کے لیے پینے کا پانی ختم ہو گیا، نوجوان مرد اور عورتیں ایک روٹی خریدنے کی خاطر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوئے، شہیدوں کے جسد قبروں کے بغیر راستوں میں پڑے خراب ہوتے رہے، ان میں بعض کو تو کفن کا ٹکڑا بھی نصیب نہیں ہوا جس سے ان کا جسم چھپ جائے، سینکڑوں دیگر ملبے تلے دبے نکلنے کے لیے فریاد کرتے رہے، لیکن ایسے اسباب ہی موجود نہیں تھے کہ انہیں نکالا جا سکے، اور نہ ہی اتنے لوگ تھے کہ ان کی آواز سن سکیں، کیونکہ اسرائیلی جہازوں کی آوازیں کوئی اور آواز سننے کی اجازت نہیں دیتیں۔

(ولا يحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون).

جاری ہے…!