عظیم یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ | آخری قسط

طاہر احرار

فلسطین:

اسرائیل کے فضائی حملوں کے بارے میں آپ کو کیا بتاؤں؟

جو تصاویر میڈیا میں نشر ہو رہی ہیں، انہیں شاید یہودی بھی نہ دیکھ پائیں، اسی طرح عیسائی، تمام کفار بلکہ کوئی انسان بھی انہیں دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔

اسرائیل کا مقصد یہ تھا کہ اس بربریت کے ذریعے فلسطینی غزہ سے ہجرت کر جائیں، اسرائیلی ریاست کا رقبہ بڑھ جائے اور غزہ مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں آجائے اور اس طرح عظیم اسرائیل کے منصوبے کا ایک مرحلہ کامیاب ہو جائے۔

اس منصوبے کی خاطر اسرائیل اور مغرب نے بہت پہلے سے تیاری کر رکھی ہے، یہاں تک کہ عراق پر حملہ اور صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنا، پھر وہاں داعشی خوارج کا ظہور، شیعہ سنی جنگ، شام میں بدامنی پھر داعش کا وہاں رقہ کو اپنا دارالخلافہ بنانا، یہ سب ایک عظیم یہودی ریاست کے قیام کا حصہ تھے۔

اسرائیل نے شام کے علاقے گولان (جولان) پر بھی قبضہ کیا، مصر میں صحرائے سینا میں بھی مداخلت جاری ہے، لبنان کی طرف بھی وسیع اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے، اور لبنان کے سیاسی حالات میں انتشار پیدا کرنے میں بھی یہ دخیل ہے۔

عرب حکمرانوں کا حال تو یہ ہے کہ جہاں مغربی دنیا نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا اور اسے ہتھیار فراہم کیے وہاں عربوں نے فلسطین کو صرف کفن فراہم کیے،وہ تو مصر اور اردن نے ان کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھولیں، ورنہ بعید نہیں تھا کہ اسرائیل اپنے مقاصد حاصل کر لیتا۔ لیکن فلسطینی بہادروں نے ایسی قربانی پیش کی کہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور معصوم بچوں کا خون ضرور رنگ لائے گا۔

فلسطینیوں کا عزم ہے کہ اس جنگ اور بمباری میں جب تک ایک بھی شخص زندہ باقی ہے وہ فلسطین سے ہجرت نہیں کرے گا۔ ان شاء اللہ۔

والله غالب على أمره