امیر المومنین حفظہ اللہ، ہم جانتے ہیں، دشمن کا ہر پراپیگنڈہ

محمد صادق طارق

دشمن ہمیشہ اس مجاہد شخصیت کو نقصان پہچانے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ جس نے دین اسلام کی سربندی اور وطن عزیز کی آزادی کی خاطر اپنا بیٹا قربان کر دیا۔ اس مختصر تحریر میں میں امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے روزمرّہ کاموں اور ان کی چند باتوں پر روشنی ڈالوں گا۔

امیر المؤمنین کے یومیہ اوقات کار کا شیڈول کچھ اس طرح سے مرتب ہے۔ نمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کے فوری بعد قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتے ہیں، لیکن پورے اہتمام سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ امیر المؤمنین حفظہ اللہ ایک خوش الحان اور باتجوید قاری ہیں جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت تجوید کے اصولوں کا مکمل اہتمام کرتے ہیں۔

صبح کی چائے پیتے وقت وہ فتاویٰ کے حوالے سے بعض اہم مسائل کا مطالعہ کرتے ہیں یا بعض کاموں اور دفتری امور سے متعلق بعض ضروری دستاویزات دیکھتے ہیں۔ دفتر پہنچنے کے بعد سرکاری وقت شروع ہونے سے قبل اپنے دفتر کے تمام ملازمین کو یومیہ درس کے طور پر مشکوۃ المصابیح کا درس دیتے ہیں اور پھر سرکاری کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح وہ اپنے کام جاری رکھتے ہیں، پھر نمازِ ظہر کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور دوبارہ شیڈول کے مطابق اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات اگر میٹنگ اس طرح سے ترتیب دی گئی ہو کہ اس میں کچھ لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہوں، تو اس میں شریک ہر فرد کو متعلقہ موضوع پر اپنی رائے دینے اور بات کرنے کا پورا وقت دیا جاتا ہے۔

یہ معاملہ اسی طرح جاری رہتا ہے، بعض اوقات صبح سے ایک یا دو بجے تک کام جاری رہتا ہے۔ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اہم کاموں کی نگرانی کرنے کی وجہ سے پوری رات نہیں سوتے۔

واضح رہے کہ زعیم امیر حفظہ اللہ ہمیشہ تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے ہیں اور بعض اوقات نمازِ فجر سے قبل تلاوت اور مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

امیر المؤمنین کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان مسائل کی پوری گہرائی سے تحقیق کرتے ہیں جو ان سے متعلق ہوں اور ان کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہیں، حتیٰ کہ جملوں اور الفاظ کی ترکیب تک پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ وہ تمام مسائل پر اسی طرح پوری توجہ دیتے ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے ساتھ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات، واقعات اور روزمرہ کے اہم مسائل سے بروقت آگاہ رہیں۔

امیر المؤمنین جب امارت اسلامیہ کے سابق دور میں صوبہ ننگرہار میں قاضی کے فرائض انجام دے رہے تھے تو انہوں کے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ جس عدالت میں مامورین نے اپنی ماہانہ تنخواہ وصول کی، وہاں دیگر قاضیوں کے دستخط تو موجود تھے لیکن امیر المؤمنین کے دستخط کی جگہ خالی رہی۔ پتہ چلا کہ تب بھی امیر المؤمنین نے بیت المال سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔

درست معلومات کے مطابق، امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے خاندان میں کسی کے پاس بھی اب تک سرکاری ملازمت نہیں ہے اور ان سمیت ان میں سے کوئی بھی بیت المال سے تنخواہ وصول نہیں کرتا۔ اگرچہ قریبی ساتھیوں میں باصلاحیت اور قابل لوگ موجود ہیں، لیکن انہوں نے کسی کو سرکاری ملازمت یا بیت المال سے تنخواہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی۔ امیر المؤمنین کے خاندان کے دو افراد ان مساجد میں امام ہیں جو محکمہ حج و اوقات سے منسلک ہیں، لیکن وہ بیت المال سے تنخواہ وصول نہیں کرتے۔ جب ان کے مقتدی اپنی مرضی سے انہیں کچھ دے دیتے ہیں  تو اسی سے وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل امیر المؤمنین حفظہ اللہ نے ایک مدرسے کا افتتاح کیا، تاکہ بعض حکام کے بچے جو دیگر مدارس نہیں جا سکتے، یہاں تعلیم حاصل کر سکیں اور وہ خود اس جگہ کا انتظام سنبھالیں، لیکن بعد میں انہوں نے اپنی رائے بدل دی کہ شاید دیگر حکام بھی پھر اس طرح مدرسے بنائیں اور ان کا انتظام کرنے لگیں، اس لیے انہوں نے صوبہ قندھار کے شعبہ تعلیم کے سربراہ مولوی نقشبندی صاحب کو بلایا اور انہیں کہا کہ یہ مدرسہ آپ کے حوالے ہے، اساتذہ کے کھانے اور دیگر اخراجات خود ادا کریں۔ مہتمم کے طور پر انہوں نے کاموں کو اس طرح ترتیب دیا  کہ اپنے دستخط کے ذریعے بیت المال کے خزانے سے اساتذہ کی تنخواہیں اور مدرسے کے اخراجات وصول کر لیتے تھے، لیکن اپنی کوئی تنخواہ نہیں تھی۔ وجہ یہ کہ مدرسے کا مہتمم امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے خاندان کا فرد ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ خاندان کا کوئی فرد بیت المال سے اپنا حق یا ماہانہ تنخواہ حاصل کرے۔

وزیر اطلاعات و ثقافت کے نائب وزیر مہاجر فراہی کہتے ہیں: صوبہ غور کے گورنر ملا احمد شاہ دین دوست نے مجھے بتایا:  ایک رات جب بہت بارش اور برفباری ہو رہی تھی، صوبہ غور کے ایک دور دراز ضلع کے ضلعی گورنر نے مجھے وٹس ایپ کے ذریعے ایک پیغام بھیجا جس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک خاتون دردِ زہ میں مبتلا ہے، تمام راستے بند ہیں، مقامی ڈاکٹروں نے بہت کوشش کر لی، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔

احمد شاہ دین دوست کہتے ہیں کہ میں نے ضلع مرغاب کے ضلعی گورنر کا پیغام براہ راست امیر المؤمنین کے دفتر بھیجا، کچھ وقت کے بعد امیر المؤمنین کے مرابط نے پیغام بھیجا: آپ انہیں تسلی دیں اور صوبہ ہرات کے گورنر شیخ الحدیث اسلام جار سے رابطہ کریں، ہم بہت جلد ہرات کور سے ایک ہیلی کاپٹر بھیجیں گے۔ میں بھی رات کی تاریکی میں غور کی بارڈر بریگیڈ کے پاس آیا تاکہ اس ہیلی کاپٹر کا انتظار کروں اور ان کے ساتھ چلا جاؤں، کیونکہ شاید پائلٹوں کو راستہ نہ مل سکے۔

دین دوست کے بقول امیر المؤمنین کے مرابط ہرات کے گورنر شیخ اسلام جار اور الفاروق کور کے کور کمانڈر کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے، ہم گھڑیاں شمار کر رہے تھے کہ کب موسم ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے کچھ بہتر ہوگا۔

غور کے گورنر مزید کہتے ہیں کہ اس وقت امیر المؤمنین کے مرابط نے مجھے کئی بار ٹیلی فون کیا اور کہا کہ امیر المؤمنین اس موضوع پر تازہ ترین رپورٹ مانگ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ معاملہ کہاں تک پہنچا۔ رات بارہ بجے کے بعد ضلع مرغاب کے ضلعی گورنر نے اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حل کر دیا۔ میں نے فورا امیر المؤمنین کے دفتر اطلاع کر دی کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔

ان چند واقعات کو پڑھنے کے بعد فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔