الحاج حافظ شفیع الله (صدر) شہید تقبله الله

زندگی اور جدوجہد کا مختصر جائزہ

خوبصورتی، محبت اور اخلاص سے بھرپور چہرہ، بہترین اخلاق سے مزین، الحاج حافظ شفیع اللہ (صدر) شہید ولد حاجی غلام حبیب ولد حاجی محمد صدیق نے، صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک کے گاؤں اللہ داد خیل کے ایک متدین، علمی اور جہادی گھرانے میں ۶ جولائی ۱۹۹۸ء کو اس فانی دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد کے امام صاحب، مرحوم مولوی احمد خان سے حاصل کی۔ بڑے ہوئے تو افغانستان اور پاکستان کے مختلف دینی مدارس کی جانب علمی سفر کیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر کابل میں پل چرخی کے علاقے میں چلے گئے، وہاں سپین مسجد کے مدرسہ میں قرآن عظیم الشان کے حفظ کی فضیلت اور شرف نصیب ہوا اور عصری تعلیم شاہمزار ہائی اسکول سے حاصل کی اور پھر دسویں جماعت تک خوشحال خان ہائی اسکول میں رہے۔

وطن عزیز پر مغربی تسلط کا جال بچھا ہوا تھا، ہر طرف مظلوموں کی چیخ و پکار سنائی دیتی تھی، خون میں تر حالات برداشت سے باہر ہو چکے تھے، اس لیے شہید کی جہاد سے غیر مشروط محبت کی بدولت، انہوں نے اپنی مزید تعلیم مکملم نہیں کی اور جہاد کے گرم محازوں کے لیے بندوق اٹھا لی۔

انہوں نے پہلی بار صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک میں حاجی حماس کے گروپ میں اپنی جہادی خدمات کا آغاز کیا، پھر اپنے تزکیہ نفس کے لیے، تاکہ اپنے علاقے میں جہادی خدمات، دکھاوے کا باعث نہ بن جائیں، صوبہ لوگر کے صدر مقام میں، مولوی امین اللہ (ابو عمر) کے گروپ میں شامل ہو گئے۔

اس وقت مشرقی صوبوں میں خوارج کے خلاف جہاد اور معرکے بھی گرم تھے۔ داعشیوں سے شدید دشمنی کی وجہ سے، مولوی امین اللہ صاحب کی قیادت میں صوبہ لوگر کے یونٹ  کے ساتھ جلال آباد جنگ کے لیے چلے گئے اور تورہ بورہ میں داعشی خوارج کے خلاف اجنگ میں شریک ہوئے۔ دو بدو جنگوں اور خوارج کے خلاف بہت سے حملوں میں حصہ لیا۔ جب یونٹ واپس لوگر آگیا تو کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد صوبہ پکتیکا کے ضلع آریوب زازی میں مولوی عبد الحق شہید کے گروپ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جہادی خدمات کا آغاز کیا۔ وہ انتہائی دلیر اور با ہمت نوجوان تھے، وہاں سے ایک بار پھر خوارج کے خلاف جہاد کے لیے مولوی عبد الحق صاحب کی قیادت میں پکتیا کے یونٹ میں جلال آباد چلے گئے، وہاں مولوی صاحب سمیت تین ساتھی شہید ہوئے۔

وہاں اپنا وقت پورا کرنے کے بعد وہ پھر پکتیا اور وہاں سے اپنے علاقے میں واپس آ گئے۔ فورا ہی اپنے محاز کے ساتھیوں کے ساتھ مولوی امین اللہ (ابو عمر) کے گروپ میں شامل ہو گئے اور ماضی کی طرح ایک بار پھر حملہ آوروں کے خلاف اپنی جہادی جدوجہد شروع کر دی۔ اسی دوران گھر کے معاشی مسائل بڑھنے کی وجہ سے رزقِ حلال کمانے کے لیے سعودی عرب چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد اپنے وطن عزیز واپس آ گئے۔ لیکن جہاد سے جڑے اپنے ضمیر اور جہادی جذبوں نے انہیں آرام سے بیٹھنے نہیں دیا، پھر سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جہادی خدمات شروع کر دیں۔

بالآخر ۴ مئی ۲۰۲۱ء رمضان المبارک کے بائیسویں روزے، صبح دس بجے، صوبہ لوگر کے صدر مقام پل عالم میں شہروال مارکیٹ کے نزدیک لوگر کی سکیورٹی کے اجرتی اور غلام فوجیوں کے خلاف گوریلا کاروائی کی، جس میں دو فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوا اور حافظ صاحب بھی شدید زخمی ہو گئے۔ اجرتی فوجیوں سے ایک بندوق بھی غنیمت حاصل ہوئی۔

حافظ صاحب کو وہاں سے کمال خیل فیلڈ ہسپتال بھی منتقل کیا گیا، اور وہاں سے علاج کی خاطر دیگر مختلف جگہوں پر بھی لے جایا گیا، لیکن زخم بہت گہرے تھے، بہت علاج کیا گیا لیکن پھر بھی زندگی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ۲۲ مئی ۲۰۲۱ء کو ۲۳ سال کی عمر میں شہادت کے اعلیٰ مقام کو پہنچ گئے۔

نحسبه كذالك والله حسيبه

ان کی روح شاد اور ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے!