اعلامی جدوجہد کی اہمیت

حسّان مجاہد

رسول اللہ ﷺ جب مشرکین کے ساتھ صلح کے معاہدے پر دستخط کر رہے تھے تو حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے فرمایا: لکھو! ’’یہ معاہدہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے…‘‘

کفار نے کہا: اپنے نام کے ساتھ رسو اللہ مت لکھیں، کیونکہ اگر ہم آپ کی رسالت کو مانتے، تو پھر اس جنگ کی کیا ضرورت تھی؟ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ ہٹا دو!

اسلام کے اس عظیم مجاہد نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نہیں ہٹاؤں گا! پھر رسول اللہ ﷺ نے خود قلم اٹھایا اور ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ ہٹا دیا۔

یہودی رسول اللہ ﷺ کو ’’السلام علیکم‘‘ کی جگہ ’’السام علیکم‘‘ کہتے تھے، جس کا معنی ہے ’’تم پر موت ہو‘‘۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فورا جواب دیا ’’وعلیکم السام ولعنۃ اللہ‘‘ یعنی تم پر موت اور اللہ کی لعنت دونوں‘‘۔

عقبہ بن ابی معیط نے جب رسول اللہ ﷺ کے جسمِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی پھینکی، جبکہ رسول اللہ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے،  تو جنتی عورتوں کی سردار فاطمہ رضی اللہ عنہا بھاگتی ہوئی آئیں، اوجھڑی کو ہٹایا اور کفار کو سخت باتیں سنائیں۔

حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قریش کی مذمت اشعار کی زبان میں کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لیکن میں بھی قریشی ہوں؟ حسان نے فرمایا: آپ کے خاندان (گھرانے) کو اشعار کے ذریعے ایسی مہارت سے علیحدہ کروں گا جیسے آٹے سے بال کو نکالا جاتا ہے۔

غزوۂ احد میں جب شیطان نے آواز لگائی: ’’محمد ﷺ قتل ہو گئے‘‘۔ ابو سفیان نے پکارا: محمد ﷺ موجود ہیں؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جواب مت دو، لیکن عمر رضی اللہ عنہ بے تاب ہو گئے اور انہوں نے جواب دیا: اے خدا کے دشمن! ہم سب زندہ ہیں!

صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار کا ایک نمائندہ آیا اور اس نے بات کرنے کے دوران رسول اللہ ﷺ کی داڑھی کو پکڑ لیا، (جیسے اس دور میں رواج تھا) ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کے پاس مستعد کھڑے تھے، جنگی خود ان کے سر پر تھا اور کوئی انہیں نہیں پہچانتا تھا، انہوں نے اس کافر سے فرمایا: اپنا ناپاک ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی مبارک داڑھی سے ہٹا لو! کافر نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ تمہارا بھائی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ سب اعلامی جدوجہد کی کچھ مثالیں ہیں۔

حق و باطل کے درمیان جدوجہد کے مختلف پہلو اور میادین ہوا کرتے ہیں جن میں سے ایک اہم ترین میدان اعلامی میدان ہے۔ اس میدان میں ایک فریق دوسرے فریق کے عقائد اور افکار کو متزلزل کر سکتا ہے اور آہستہ آہستہ اسے اپنی فکر و منہج کی طرف لا سکتا ہے، اسی لیے باطل پرست ان حق پرست اعلامی لوگوں سے بہت خوف کھاتے ہیں جو اعلامی میدان میں امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور باطل کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں، انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی میڈیا سرگرمیوں کا راستہ روکتے ہیں اور ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا ورکرز اچھی طرح جانتے ہیں کہ دورِ حاضر میں میڈیا فکری جنگ کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے، کفار اور ملحدین پوری کوشش کر رہے ہیں کہ امت مسلمہ بالخصوص خواتین اور نوجوان نسل کو گمراہ کر دیں۔ اسلام قرآن کریم، رسول اللہ ﷺ اور اسلامی اقدار کی نفی کی جاتی ہے، مسلمانوں میں دین کے حوالے سے شکوک پیدا کیے جاتے ہیں، اسلام کو ایک سخت گیر مذہب کے طور پر متعارف کروایا جاتا ہے، اسلامی نظام کے حوالے سے لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور یہ کام وسیع مالی وسائل کی مدد سے جاری ہے اور ہر اکاؤنٹ کے لاکھوں لوگ فالوؤرز ہیں، اور یہ امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے بہت بڑا کام ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ مومن کی غفلت اور کافر کی بیداری اور فعالیت اسلام کو بہت نقصان پہنچاتی ہے، ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم صحاقبہ کرام کی طرح پراپیگنڈہ کا مقابلہ کریں، اسلام، رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے خلاف جو بھی تنقید ہو، ہم یہ نہ کہیں کہ اس سے تو نقد کرنے والا کافر ہو گیا اور کافر سے کیسا گلہ؟ تنقید کرنے والے کے کفر کو مت دیکھیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ یہ تنقید سادہ ذہن مسلمانوں کو کتنا متاثر کرتا ہے اور شاید کافر کی یہ تنقید کل مسلمان کے کفر کا باعث بن جائے۔

میڈیا ٹولز ہمارے پاس بھی ہیں، باطل پرست بھی رکھتے ہیں، لیکن وہ ایک طرح سے کام کرتے ہیں اور ہم دوسری طرح سے۔ یہ میڈیا ٹولز ہی ہیں جنہوں نے عام نوجوانوں کو، جن میں بہت سے دینی علماء و طلبا بھی شامل ہیں، اپنے مقصد سے ہٹا دیا ہے، اور وہ حق کا دفاع کرنے کی بجائے حق میں شبہات پیدا کرنے والوں کا شکار ہو گئے ہیں۔

آج ہمیں ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ ایک شخص شام کو اپنے گھر داخل ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام سے مکمل طور پر مطمئن ہے، لیکن اگلے دن ایسی حالت میں گھر سے نکلتا ہے کہ نظام کے بارے میں بے اعتماد اور اس کے خلاف جذباتی ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی شام کو بطور مسلمان گھر داخل ہوتا ہے، لیکن اگلے دن الحاد اور جدید جاہلیت کا شکار ہو چکا ہوتا ہے اور گھر سے کافر ہو کر نکلتا ہے، کیا نظام میں موجود اعلیٰ عہدیدوروں اور ذمہ دار افراد کو اس بات کا علم ہے کہ میری قوم گھروں میں بیٹھی کیا دیکھ رہی ہے اور مغربی میڈیا کے نتیجے میں دن بدن گمرای کے راستے پر چل رہی ہے یا حق کے راستے پر؟

آج اگر کفار نے اسلامی سرزمین سے اپنے قدم اٹھا لیے ہیں تو فکری اعتبار سے آج بھی ہماری مسلمان قوم پر پورا تسلط رکھتے ہیں اور انہیں اپنی نگرانی میں رکھتے ہیں۔

اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اعلامی جدوجہد کے آلات کو عام کرے، ملک میں دیگر منصوبوں کے ساتھ اعلامی میدان میں بھی کثیر وسائل خرچ کرے، اعلامی جدوجہد میں نوجوانوں کی تربیت کرے اور سرگرم میڈیا ورکرز کی ضروریات زندگی پوری کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دور کے شعراء اور جدوجہد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو کفار کے خلاف اشعار کہنے کے لیے منبر فراہم کیا۔