افغانستان میں داعش کی سیاست اور مقاصد | تیسری قسط

طاہر احرار

امریکی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے داعش نے تیسرا حملہ پورے افغانستان میں شیعہ نظریہ رکھنے والوں پر کیا۔

اس مسئلے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ شیعہ کیسے اور کون ہیں؟

لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلام میں مذہبی آزادی کا کیا حکم ہے؟

داعش اس مقصد کے لیے کہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے اور افغانستان عراق کی طرح جنگ کا مرکز بن جائے، عوام شیعہ اور سنی میں تقسیم ہو جائیں، اور آپس میں لڑنے لگیں، اور امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر لے، شیعوں کے خلاف وقتاً فوقتاً کاروائیاں کرتی ہے اور انہیں قتل کرتی ہے۔ دراصل یہ چاہتے ہیں کہ شیعوں کے سابق جنگجو یا سابق گروہ جیسے فاطمی انتقام لینے کے لیے سنیوں پر حملہ کرنے پر مجبور ہو جائیں، یا کم از کم اپنے دفاع کے نام پر شیعہ آبادی کے علاقوں میں بغاوت کھڑی ہو جائے۔ لیکن الحمد للہ ہمارے قائدین سمجھدار اور محتاط ہیں اور کسی کو بھی حد سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی طرح شیعہ رہنما بھی جانتے ہیں کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے، کیونکہ افغانستان کے تمام شیعہ باشندے امیر المؤمنین کے ہر فرمان کی حمایت اور اطاعت کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی پالیسیاں مسلسل ناکام ہو رہی یہں۔

مثلاً ننگرہار میں حنفی سلفی سیاست

شمال میں فارسی اور پشتو زبان کی سیاست

پورے ملک میں شیعہ سنی سیاست

مندرجہ بالا منصوبوں کا ٹھیکہ داعشیوں نے اٹھایا تھا، لیکن وہ اسے مکمل نہ کر سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں اب قوم متحد ہے، یہاں تک کہ امارت کے شدید ترین مخالفین بھی امارت کی اطاعت کرتے ہیں۔ عوام جانتی ہے کہ ملک کے محافظ، خود مختار، ملک سے وفادار اور پر عزم لوگ کون ہیں۔

چونکہ داعش نے مذکورہ معاہدہ پورا نہیں کیا اس لیے اب اس کے آقاؤں کو بھی اس کا کوئی غم نہیں ہے اور یہ فتنہ آہستہ آہستہ روبہ زوال ہے۔

الحمد للہ