افغانستان میں داعش کی سیاست اور مقاصد | دوسری قسط

طاہر احرار

مغرب نے افغانستان کے مشرقی زون کے لیے حنفی اور سلفی کے درمیان اختلاف کی بنیاد پر ایک منصوبہ ترتیب دیا۔ لیکن عوام نے بحث و مباحثہ اور مناظرے کرنے کی بجائے امارت اسلامیہ افغانستان کو مزید مضبوط کیا اور یہ سمجھ لیا کہ اگر اس فتنہ کی بیخ کنی نہ کی گئی اور اسے جڑوں سے اکھاڑ نہ پھینکا گیا تو یہ پوری قوم کے لیے سخت دردِ سر بن جائے گا۔

امریکہ نے اس منصوبے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا منصوبہ افغانستان کے شمال میں ترتیب دیا جہاں اس نے داعشی خوارج کو ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا اور پھر پشتون اور فارسی زبان کے نام پر ایک اور تنازع شروع کر دیا، وہاں داعشی خود کو تاجک کہتے تھے۔ دراصل یہ افغانستان کو ایک قومی جنگ کی طرف دکھیلنے کا منصوبہ تھا۔ حکمران کٹھ پتلی نظام نے بھی اتنی بڑی غلطی کی کہ اس نے افغانستان کو اس تقسیم اور جنگ کے لیے تیار کر دیا۔

اگر وہاں امارت اسلامیہ افغانستان کی سمجھدار قیادت موجود نہ ہوتی، قریب تھا کہ افغانستان ایک قومی جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتا۔ لیکن الحمد للہ ایسا نہیں ہوا، قیادت نے دونوں فریقین کو بھائی چارے کی دعوت دی اور انہیں اس بغاوت کی سیاست اور اس کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ شمال میں معاملہ اس نہج پر پہنچ گیا کہ ہر جگہ مقامی لوگ امارت اسلامیہ کی حمایت اور داعش سے جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے، اور داعشیوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ کٹھ پتلی نظام کے سپاہیوں کو انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر جبکہ ان کے قائدین کو کابل کے ہوٹلوں میں منتقل کرنا پڑا۔

امریکہ کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو بھی عراق کی طرح خانہ جنگی کا شکار کر دے اور پھر ایسی قومی جنگوں سے دوچار کر دے جو کبھی ختم نہ ہوں۔ اس طرح وہ خود یہاں امن سے رہتے اور کٹھ پتلی حاکم نظام عوام کی عزتوں سے کھیلتا رہتا۔ لیکن افغانوں نے پھر بھی اپنا اتحاد برقرار رکھا، جبکہ امریکہ اس کے اتحادیوں اور اس کے زر خرید غلاموں کو منہ کی کھانی پڑی۔

آپ نے دیکھا کہ فتح کے وقت زیادہ تر فارسی بولنے والے صوبے پشتو بولنے والے صوبوں سے پہلے فتح ہوئے۔ یہ وہاں کے لوگوں کی سمجھداری اور تجربہ تھا کہ جس نے ملک کو تقسیم کرنے کی بجائے آزادی دلائی۔