افغانستان میں داعش کی سیاست اور مقاصد | پہلی قسط

طاہر احرار

افغانستان میں داعش کی سیاست اور مقاصد

عالمی طاقتیں دنیا میں لوگوں اور جماعتوں کو مختلف پالیسیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں، کبھی ان کے مقاصد شروع سے ہی معلوم ہوتے ہیں اور کبھی طویل عرصے کے بعد نتائج سامنے آتے ہیں لیکن تب تک سب کچھ کھو چکا ہوتا ہے۔

مغربی ممالک کبھی کبھی بچگانہ حرکتیں کرتے ہیں اور کبھی لوگوں کو بچہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہوتی۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب امریکہ نے عراق اور شام سے ہوائی جہازوں میں داعش کو افغانستان منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا، اس وقت کے حکمران کچھ نہ کہہ سکے کیونکہ وہ تو صرف زرخرید تھے، اس طرح افغانستان میں داعش کی خراسان شاخ نے کام شروع کر دیا۔

انہوں نے ننگرہار کا انتخاب کیوں کیا؟

کیونکہ وہاں دو عقیدوں کے لوگ بستے ہیں  اور ان کا ارادہ اسی نقطے سے استفادہ کرنے کا تھا۔ انہوں نے احناف اور اہل سنت والجماعت کے عقیدے کو مسترد کیا، انہیں قتل، اغوا اور لاپتہ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہاں وہابیت کو فروغ دیا جانے لگا، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ انہوں نے ایسے وہابیوں اور سلفیوں کو بھی قتل کیا جو حقیقی معنوں میں مجاہدین تھے یا انہیں کسی نہ کسی طرح ان علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا۔ صرف امریکی زرخرید اور مادہ پرست ہی ان کے ساتھی بنے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عراق کی طرح افغانستان میں بھی وہابی اور حنفی ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں، جنگ کریں، ایک دوسرے کو قتل کریں اور کمزور ہو جائیں، اس طرح امریکی چھتری تلے حکومت بچ جائے، لوگ بھی ان سے نفرت کریں اور امریکیوں کے وہاں رہنے کے لیے زمین سازگار ہو جائے۔ اگر اس خطے میں امارت اسلامیہ افغانستان کی با تدبیر قیادت موجود نہ ہوتی، قریب تھا کہ خارجی ان مقاصد کو حاصل کر لیتے۔

دوسری طرف وہ مشرق میں اپنی کرائے کی فوج رکھنا، ان کے لیے اڈے بنانا اور تربیت کرنا بھی چاہتے تھے۔

جاری ہے…!