افغانستان میں داعش کی موجودگی کے پراپیگنڈہ کا مقصد

شہاب افغانی

آج افغانستان میں سکیورٹی کمیشن کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقات کیا گیا۔ یہ کانفرنس میں جو قائم مقام وزیر دفاع اور اس کمیشن کے سربراہ مولوی محمد یعقوب مجاہد نے منعقد کی۔ انہوں نے کانفرنس کے دوران افغانستان میں داعش کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے کہا: ’‘افغانستان میں جو داعشیوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے مبالغہ آمیز اندازے اور اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، وہ سب ان غلط معلومات پر مبنی ہیں جن کی طرف میں نے پہلے اشارہ کیا۔‘‘

افغانستان میں اسلامی نظام اور مکمل سکیورٹی کے قیام کے ساتھ ہی بعض ممالک اپنے ذاتی مفادات اور اسلامی نظام سے بغض رکھنے کی وجہ سے اسلامی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔

عام طور پر ایسی حرکتیں بعض اہداف کے حصول کے لیے کی جاتی ہیں تاکہ کسی ملک کو اپنے زیر اثر لایا جا سکے اور اپنے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔

داعش کے وجود کے بارے میں مغربی میڈیا جو کام کر رہا ہے اور دنیا کو دکھا رہا ہے کہ افغانستان ایک بد امنی کا شکار ملک ہے وہ اصل میں اس طرح اپنی شکست کا کسی نہ کسی طرح بدلہ لینے کے لیے داعش کے لیے پراپیگنڈہ مہم چلا رہا ہے۔

افغانستان کے جغرافیہ میں بسنے والے مسلمان حنفی مذہب کے پیروکار ہیں، اس لیے داعش کے وجود اور نفوذ کا مذیبی طبقے میں کوئی امکان موجود نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آگ اور پانی کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ افغان اغیار کے افکار اور نظریات کو تسلیم نہیں کرتے اور اس راہ میں بے شمار قربانیاں بھی دے چکے ہیں۔ اسی طرح داعش کا ناپاک نظریہ اور غلو پر مبنی فکر بھی افغانوں کے لیے قابل قبول نہیں۔ وہ فکر کہ جس میں اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان تصور نہ کیا جائے، افغانستان میں مسترد  کی جا چکی۔

اب بھی مغرب بالواسطہ یا بلاواسطہ کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان میں داعشی خوارج کی موجودگی کو ثابت کرے، حالانکہ داعشی گروہ افغانستان میں زوال پزیر ہو چکا اور عملی طور پر یہاں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا، لیکن میڈیا کے میدان میں مغرب ان کی نیابت اور پرورش کر رہا ہے۔

حال ہی میں سلامتی کونسل نے بھی داعش کے لیے میڈیا مہم شروع کی ہے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ داعش کی افغانستان میں موجودگی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے، اور مکاری کے ساتھ خود اپنے ہی منصوبے سے خوف کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں داعشی خوارج کا وجود اور سرگرمیوں کے بارے میں تمام دعوے جھوٹے ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔