افغانستان میں داعش کے اہم اہداف

محمد طارق صادق

افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے اواخر میں، افغانستان کے بعض صوبوں میں داعش کے فتنہ گر گروہ کی موجودگی کے بارے میں بہت سی افواہیں سنی جا رہی تھیں۔ صوبہ ننگارہار سے افغانستان کے شمال میں داعش کی جغرافیائی منتقلی کے معاملے کو اس وقت حالات کی سنگین خرابی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ داعش کو افغانستان میں کن اہداف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

طویل المدتی جنگ کو دوام دینا

وہ ممالک جو داعش کی حمایت اور اس کے نفوذ کے خواہشمند تھے، وہ چاہتے تھے کہ افغانستان، جو ان کی موجودگی کی وجہ سے جنگ کی آگ میں جل چکا تھا، داعش کے مضبوط ہونے کے سبب ایک بار پھر داعش کے خلاف جنگ کا گرم میدان بن جائے تاکہ امریکہ اپنے بڑے مفادات حاصل کر سکے اور ایک اور طویل المدتی جنگ کے لیے زمین ہموار ہو سکے۔ لیکن چونکہ امارت اسلامیہ کے قائدین کی قوی بصیرت نے مسئلہ کی گہرائی کو بھانپ لیا تھا، اس لیے وہ بہت جلد داعشی منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

امارت اسلامیہ کو کمزور کرنا

طویل المدتی جنگ شروع کرنے میں ناکامی کے بعد، داعش خاص طور پر اس کی خراسان شاخ کا سب سے اہم ہدف افغانستان میں امارت اسلامیہ کو کمزور کرنا تھا۔ جنگوں پر تحقیق کرنے والے ادارےof War  Institute for the Study کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں داعش خراسان کا اصل ہدف طالبان حکومت کو کمزور کرنا اور بالآخر طالبان کا تختہ الٹنا تھا، لیکن وہ اس ہدف میں بھی ناکام ہوئی۔داعش کے تمام منصوبے ناکام ہوئے اور جڑ سے اکھاڑ دیے گئے۔

افغانستان کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے امریکہ کو اقتصادی تعاون

یہ بات واضح ہے کہ تیل، یورینیم اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل کے حصول کے لیے، جو کہ اس ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اوّلین وسیلہ ہیں، امریکہ کو دہشت گری کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان جیسے ممالک  کے ساتھ معاہدات کرنے اور وہاں موجودگی کی ضرورت تھی۔ لیکن بیس سال یہاں رہنے کے بعد اسے شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جس کے بعد وہ معاشی میدان میں داعش کی مدد کرنے پر مجبور ہوا۔ اگرچہ یہ مدد بظاہر امریکہ کے لیے بہت مہنگی تھی لیکن اس کی بدولت کم از کم کچھ سالوں تک کے لیے امریکہ کی تیل کی ضروریات پوری ہونے کا امکان تھا۔

امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک مفادات میں تعاون

ایشیا کی بڑی اقتصادی طاقتوں کے ساتھ ، بالخصوص ترقی کی راہ پر گامزن چین، عسکری طور پر پھر سے مضبوط ہوتے روس اور اقتصادی ترقی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے بھارت سے مسابقت، امریکہ اور اس کے مفادات کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ نیٹو اور امریکہ کے مضبوط حریف کے طور پر شنگھائی تعاون مغرب کے لیے آہستہ آہستہ ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو رہا ہے۔ لہٰذا ان ممالک کے اثر و رسوخ کے آگے ہر ممکن طریقے سے بند باندھنے کے لیے امریکہ کو صرف ایک بہانے کی ضرورت ہے اور وہ ہے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کو شکست دینا۔ اس وقت داعش کو وسطی ایشیاء میں ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر جانا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکہ بظاہر اسے دبانے کے نام پر اپنی حریف حکومتوں کو کنڑول اور ان کی نگرانی کرے گا۔

مختصرا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ داعش کی کوشش ہے کہ وسطی ایشیاء کو اپنے زیر تسلط لے آئے۔ افغانستان میں داعش، وسطی ایشیاء کے لیے داعش کا معنی رکھتی ہے اور اس کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ داعش اصل میں افغانستان کے جغرافیہ کے لیے نہیں ہے اور اس کا حتمی مقصد دیگر طاقتوں کی خاطر وسطی ایشیا پر قبضہ کرنا ہے۔